۔
آنگن میں یاد کا جب کوئی جگنو ٹمٹائے
یا فلکِ پر چاند کو دیکھو اداس تم
آینہ جو دیکھو تو میرا عکس نظر آے
اک نمی سی تمھاری پلکوں کو چھو جاۓ
کبھی جو آنگن میں مہکتی بیلیں
بارشوں میں بھیگ کر مسکرائیں
مٹی کی سوندھی سی مہک
جو تن من کو مہکے____
اور ذہن کے دریچے میں میری یاد ابھرے
کبھی جو کمرے کی تنہائی
دل کے درد کو بڑھا دے
نگاہوں میں تمھارے یاد کی تتلیاں مسکرائیں
دل دھیرے سے کہ دل
; لوٹ آؤ ؛
صبح کی پہلی کرن جب رولا دے تمکو
محبتوں میں جو سکون نہ ملے
ہجوم دوستاں میں پاؤ خود کو تنہا
نیند جب تم سے یونہی روٹھ جاۓ
ہاتھ جب دعا کو بے ساختہ اٹھیں
شب کھڑکی پر مسکراتا چاند
تاروں میں لگے گداز _______
ایسے میں تم سمجھ لینا
دل کو میری یاد آئی ہے
میری یاد آئی ہے
۔

