The Poetry Collections: GhazalCollections

Hot

Post Top Ad

Your Ad Spot
Showing posts with label GhazalCollections. Show all posts
Showing posts with label GhazalCollections. Show all posts

Monday, 14 February 2022

Tera Ana Zarori Hai

February 14, 2022

Tera Ana Zarori Hai

.

 زندگی آدھی ہے، ادھوری ہے

..تیرا آنا بہت ضروری ہے

 

 سامنے تو ہے لمحہ لمحہ مرے 

اور زمیں آسماں کی دوری ہے

 

 کوئی منطق ،کوئی دلیل نہیں

 تو ضروری تو بس ضروری ہے

 

 جیسے قسمت پہ اختیار نہیں

 یہ محبت بھی لا شعوری ہے

 

 کون سیکھا ہے صرف باتوں سے 

سب کو اک حادثہ ضروری ہے

 

 ایک بس تو رہا مری حسرت

  اور ہر آرزو تو پوری ہے

 

 لکھتے لکھتے گزر گیا ابرک 

 داستاں آج بھی ادھوری ہے


اتباف ابرک

 

 

Life is half, incomplete ..

Your coming is very important 

  In front is the moment to die 

 And the earth is the distance of the sky 

  No logic, no argument 

  If necessary then just necessary

  Like not having luck 

  This love is also unconscious 

  Who has learned only by words?

  Everyone needs an accident  

There is only one death 

  And every wish is fulfilled 

  The mica passed while writing 

  Stories are still incomplete today 

 POET: Atebak Bark

Read More

Wednesday, 26 October 2016

Doston..

October 26, 2016
یہ ملاقات ہے آخری دوستو
 

mulaqat


غزل

یہ ملاقات ہے آخری دوستو
     جارہی ہے مری زندگی دوستو
 
Ye mulaqat hai Aakhri doston
Ja rahi mri zindgi doston

بے خبر کو خبر کچھ نہیں ہے مری
کیا غلط ہے تمہاری گھڑی دوستو

Hay Bekhabar Ko khabar kuch nahi hai meri 
kya galat hai tumhari ghari doston

چاندنی رات ہے چاندنی کھو گئی
چاند میں چاندنی ڈھل گئی دوستو

Chandni Raat hai chandni kho gye 
Chand main chandni dhal gye  doston

حسن کے ہم نشے میں بہت چور تھے
پھر کہاں سے قیامت اٹھی دوستو

Husan key hum nashe main boht chor thy
phir kahan sy qyamat uthi doston

ہم کہاں پر نئے گھر بنائیں یہاں
آندھیوں سے ابھی چھت گری دوستو
 
Hum kahan par naye ghar bnayen yahan
Aandhyon say abhi chat gri doston

چھوڑ ثاقب چلو ہم برے ہی سہی
کچھ تمہاری نہیں ہے کمی دوستو
 
Chor saqib chlo hum bure hi sahi
kuch tumhari nahi hai kami doston

نادر ثاقب
Read More

Saturday, 22 October 2016

Fazol Beth Kar Safhat Bharta Rehta Hun

October 22, 2016

Fazol Beth Kar Safhat Bharta Rehta Hun
 
 
Zindgi
فُضول بیٹھ کے صفحات بھرتا رہتا ہُوں
میں اَپنے آپ کو اِلہام کرتا رہتا ہُوں

Fazol beth kar Safhat bharta rehta hun
Main apne Aap ko Alham karta rehta hun

اَگر ، مگر ، نہیں ، ہرگز کی کند قینچی سے
اَنوکھے خوابوں کے پَر ، شَر کترتا رہتا ہُوں

Agar magar nahi , hargiz ki qenchi say
Anokhe khawabon key par,shar kutrta rehta hun

میں سانس نگری کا بے حد عجیب مالی ہُوں
  لگائے پودوں کے بڑھنے سے ڈَرتا رہتا ہُوں

Main sans nagri ka bey had ajab mali hun 
Lagaye podon key barhne sy darta rehta hun

نجانے کس نے اُڑا دی کہ ’’ دِن معین ہے ‘‘۔
  یقین مانیے میں روز مرتا رہتا ہُوں


Najane kis ney ura di key din moen hai
Yaqen manye main roz marta rehta hun

مرے وُجود کو اَشکوں نے گوندھ رَکھا ہے
    ذِرا بھی خشک رَہوں تو بکھرتا رہتا ہُوں
 
  Mere wjod ko ashkon ney gondh rakha hai 
Zara bhi khushk rahun to bekhrta rehta hun

دُعا کو ہاتھ اُٹھاتا تو اُس پہ حرف آتا
اَبھی تو سستی پہ اِلزام دَھرتا رہتا ہُوں

Dua ko hath uthata tu as pay hurf ata
Abhi tu susti pay ilzam dharta hun

کسی کے حُسن کا ہے رُعب اِس قَدَر مجھ پر
  میں خواب میں بھی گلی سے گزرتا رہتا ہُوں

Kisi key husan ka hai rub as qadar mujh par
main khawab main bhi gali sy guzrta rehta hun

بہت سے شعروں کے آگے لکھا ہے ’’ نامعلوم ‘‘۔
  بہت سے شعر میں کہہ کر مکرتا رہتا ہُوں

Boht say shairon key Aagy lekha hai na malom
Boht say shair main keh kar mukarta rehta hun

اُدھورے قصے کئی کاندھا مانگتے ہیں مرا
  میں کھنڈرات میں اَکثر ٹھہرتا رہتا ہُوں

Adhore qese kaye kanda mangte hain mera
Main khandrat main aksar tharta rehta hun

تمام لوگ مرا آئینہ ہیں ، اُن کے طفیل
میں اَپنی ذات کے اَندر اُترتا رہتا ہُوں

tamam log mera Aaina hain un key tufail
main apni zaat key andar utrta rehta hun

بہت سے کاموں میں خود کار ہو گیا ہُوں قیسؔ
  میں خود کو کہہ کے ’’ سدھر جا ‘‘ ، سدھرتا رہتا ہُوں
 
Bohat say kamon main  khudkar ho gya hun Qais 
Mian khud ko keh key ‘‘ sudharja’’ sudharta rehta hun

 شہزاد قیس 


.
Read More

Thursday, 20 October 2016

Kalam e Iqbal - Iblees Ka Farman Apne Siasi Farzandon Key Naam

October 20, 2016

.
ابليس کا فرمان اپنے سياسي فرزندوں کے نام

لا کر  برہمنوں  کو  سياست  کے  پيچ  ميں
زناريوں  کو   دير   کہن   سے   نکال   دو

وہ فاقہ  کش  کہ  موت  سے  ڈرتا نہيں ذرا
روح  محمد  اس  کے  بدن  سے  نکال  دو

فکر  عرب  کو  دے  کے  فرنگي  تخيلات
اسلام  کو  حجاز  و  يمن   سے  نکال  دو

افغانيوں  کي غيرت ديں  کا ہے يہ علاج
ملا کو ان کے کوہ  و دمن سے نکال دو

اہل حرم  سے  ان  کي  روايات چھين  لو
آہو کو   مرغزار   ختن   سے   نکال  دو

اقبال کے نفس سے ہے لالے کي آگ تيز
ايسے غزل  سرا  کو  چمن سے نکال دو
 
 
علامہ اقبال
 
 
ROMAN :

Iblees Ka Farman Apne Siasi Farzandon Ke Naam 
 
La Kar Barhmanon Ko Siasat Ke Paich Mein
Zunnariyon Ko Dair-e-Kuhan Se Nikal Do
 
 
Woh Faqa Kash Ke Mout Se Darta Nahin Zara
Rooh-e-Muhammad (S.A.W.) Iss Ke Badan Se Nikal Do
 
 
Fikr-e-Arab Ko De Ke Farangi Takhiyyulat
Islam Ko Hijaz-o-Yaman Se Nikal Do
 
 
Afghaniyon Ki Ghairat-e-Deen Ka Hai Ye Ilaj
Mullah Ko Un Ke Koh-o-Daman Se Nikal Do
 
Ahl-e-Haram Se Un Ki Rawayat Cheen Lo
Aahu Ko Murgh-Zaar-e-Khutan Se Nikal Do
 
Iqbal Ke Nafs Se Hai Lale Ki Aag Taiz
Aese Ghazal Sara Ko Chaman Se Nikal Do!
 
 
- - - - - Zarb-e-Kaleem
 
 
English Translate
 
 
Iblis's edict in the name of his political sons

Bringing Brahmins into the fold of politics
Get the rings out of your lap

The starving one who is not afraid of death at all
Take the soul of Muhammad out of his body

Foreign ideas are given to Arab thought
Get Islam out of Hijaz and Yemen

This treatment is a source of pride for Afghans
Get the mullah out of their mountains and oppression

Take away their traditions from the people of Haram
Get Aho out of Marghzar Khotan

Lala's fire is fast from Iqbal's soul
Get such a ghazal singer out of the lawn
 
 
   Allama Iqbal

Read More

Wednesday, 19 October 2016

Saghar Siddiqui Ki Zindagi

October 19, 2016
۔
جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس دور کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے
(ساغر صدیقی )


ساغر صدیقی1928


poet

ساغر صدیقی1928ءانبالہ بھارت میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنا بچپن سہارنپور اور انبالہ میں گزرا ۔ساغر صدیقی کا اصل نام محمداختر شاہ تھا اور وہ اپنے ماں باپ 
کی اکلوتی اولاد تھے ۔

ساغر صدیقی نے ایک مرتبہ کہا تھا
"میری ماں دلی کی تھی، باپ پٹیالے کا، پیدا امرتسر میں ہوا، زندگی لاہور میں گزاری! میں بھی عجیب چوں چوں کا مربّہ ہوں"
اس قول میں صرف ایک معمولی غلطی کے سوا اور سب سچ ہے۔"


ساغر کا بچپن انتہائی نا مساعد حالات میں گزرا۔ ساغر نے حبیب حسن خاں سے گھر پہ ہی اردو زبان کی تعلیم حاصل کی۔  ساغر نے کلام پر اصلاح لینے کے لیے لطیف انور گورداسپوری مرحوم کا انتخاب کیا اور ان سے بہت فیض اٹھایا۔ساغر نے امرتسر میں کنگھیاں بنانے کا کام بھی کیا۔
 
ساغر کی اصل شہرت 1944ء میں ہوئی۔ اس سال امرتسر میں ایک بڑے پیمانے پر مشاعرہ قرار پایا۔ اس میں شرکت کے لیے لاہور کے بعض شاعر بھی مدعو تھے۔ ان میں ایک صاحب کو معلوم ہوا کہ یہ "لڑکا" (ساغر صدیقی) بھی شعر کہتا ہے۔ انہوں نے منتظمین سے کہہ کر اسے مشاعرے میں پڑھنے کا موقع دلوا دیا۔ ساغر کی آواز میں بلا کا سوز تھا اور وہ ترنم میں پڑھنے میں جواب نہیں رکھتا تھا۔ بس پھر کیا تھا، اس شب اس نے صحیح معنوں میں مشاعرہ لوٹ لیا۔
 
1947ء میں پاکستان بنا تو وہ امرتسر سے لاہور چلا گیا۔ یہاں دوستوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اس کا کلام مختلف پرچوں میں چھپنے لگا۔ سینما فلم بنانے والوں نے اسے گیتوں کی فرمائش کی اور اسے حیرت ناک کامیابی ہوئی۔ اس دور کی متعدد فلموں کے گیت ساغر کے لکھے ہوئے ہیں۔ اس زمانے میں اس کے سب سے بڑے سرپرست انور کمال پاشا (ابن حکیم احمد شجاع مرحوم) تھے۔ جو پاکستان میں فلم سازی کی صنعت کے بانیوں میں ہیں۔ انہوں نے اپنی بیشتر فلموں کے گانے ساغر سے لکھوائے اور یہ بہت مقبول ہوئے
 
ساغر نے لکھا تھا کہ
"تقسیم کے بعدصرف شعر لکھتا ہوں، شعر پڑھتا ہوں، شعر کھاتا ہوں، شعر پیتا ہوں
ساغر صدیقی نے ہفت روزہ "تصویر" کی ادارت بھی کی۔ 
ایک اور واقعہ جو وکیپیڈیا سے لیا گیا ہے، پڑھنے اور ساغر کوخراجِ تحسین پیش کرنے کے قابل ہے۔
 
اکتوبر 1958ء میں پاکستان میں فوجی انقلاب میں محمد ایوب بر سر اقتدار آگئے اور تمام سیاسی پارٹیاں اور سیاست داں جن کی باہمی چپقلش اور رسہ کشی سے عوام تنگ آ چکے تھے۔ حرف غلط کی طرح فراموش کر دیے گئے۔ لوگ اس تبدیلی پر واقعی خوش تھے۔ ساغر نے اسی جذبے کا اظہار ایک نظم میں کیا ہے، اس میں ایک  مصرع تھا
کیا ہے صبر جو ہم نے، ہمیں ایوب ملا

یہ نظم جرنیل محمد ایوب کی نظر سے گزری یا گزاری گئی۔ اس کے بعد جب وہ لاہور آئے تو انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ میں اس شاعر سے ملنا چاہتا ہوں جس ۔  نے یہ نظم لکھی تھی۔۔۔۔مگر جناب ساغر نے صدر ایوب سے ملنے سے انکار کر دیا ۔۔۔۔ اور ایک کاغذ میں یہ شعر لکھ دیا 

جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس دور کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے
(ساغر صدیقی بقلم خود)

اور وہ پولیس افسر کی طرف بڑھا کر کہا
یہ صدر صاحب کو دے دینا، وہ سمجھ جائیں گے اور اپنی راہ چلا گیا۔

ساغر صدیقی نے بہت سنہری دور دیکھا تھا مگر پھر وہ آہستہ آہستہ نشے کی دلدل میں ایسے پھنسا کہ پھر باہر نہ نکل سکا اور دنیا نے اُسے فراموش کر دیا

جنوری1974ء میں اس پر فالج کا حملہ ہوا اس کا علاج بھی چرس اور مارفیا سے کیا گیا۔ فالج سے تو بہت حد تک نجات مل گئی، لیکن اس سے دایاں ہاتھ‍ ہمیشہ کے لیے بے کار ہو گیا۔ پھر کچھ‍ دن بعد منہ سے خون آنے لگا۔ ساغر صدیقی کے آخری ایام داتا دربار کے سامنے پائلٹ ہوٹل کے فٹ پاتھ پر گذرے۔اور ان کی وفات بھی 
دوستوں نے لے جا کر اسے میانی صاحب کے قبرستان میں دفن کر دیا۔
انا للہ وانا الیہ راجعون!

ساغر  کے شعری مجموعوں میں۔۔۔۔ غمِ بہار، زہرِ آرزو، لوحِ جنوں، شبِ آگہی اور سبز گنبد شامل ہیں۔

ساغر صدیقی کہا کرتے تھے کہ "لاہور میں بہت قیمتی خزانے دفن ہیں مگر انہیں آسانی سے تلاش نہیں کیا سکتا ۔" اور بے شک ساغر صدیقی بھی انہی خزانوں میں 
سے ایک ہیں۔

ساغر صدیقی کا خود نوشت شعری عکس


Read More

Lazim Tha Ki Dekho Mera Rasta Koi Din Aur

October 19, 2016
لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور 
تنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور
.دلچسپ حقیقت
غالب کے سات بچے تھے لیکن بدقسمتی سے ان میں سے کوئی بھی پندرہ ماہ سے زیادہ زندہ نہ رہا اور غالب بے اولاد انتقال کر گئے۔ اپنی تنہائی اور کچھ دیگر وجوہات کی بنا پر غالب نے زین العابدین خان عارف کو گود لے لیا تھا جو ان کی اہلیہ کے بھتیجے تھے۔ لیکن پینتیس سال کی عمر میں عارف کا بھی انتقال ہو گیا اور غالب کی یہ سوگوار غزل عارف کی وفات پر ان کے دیوان میں موجود ہے۔

SAD

لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور 
تنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور 

مٹ جائے گا سَر ،گر، ترا پتھر نہ گھِسے گا 
ہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور 

آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ 'جاؤں؟' 
مانا کہ ہمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اور 

جاتے ہوئے کہتے ہو 'قیامت کو ملیں گے' 
کیا خوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور 

ہاں اے فلکِ پیر! جواں تھا ابھی عارف 
کیا تیرا بگڑ تا جو نہ مرتا کوئی دن اور 

تم ماہِ شبِ چار دہم تھے مرے گھر کے 
پھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور 

تم کون سے ایسے تھے کھرے داد و ستد کے 
کرتا ملکُ الموت تقاضا کوئی دن اور 

مجھ سے تمہیں نفرت سہی، نیر سے لڑائی 
بچوں کا بھی دیکھا نہ تماشا کوئی دن اور 

گزری نہ بہرحال یہ مدت خوش و ناخوش 
کرنا تھا جواں مرگ گزارا کوئی دن اور 

ناداں ہو جو کہتے ہو کہ کیوں جیتے ہیں غالبؔ 
 
   قسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور


.
Read More

Aandhi Chai To Naqash e kaf e pa nahi mila

October 19, 2016

.
.

آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملا

دل جس سے مل گیا وہ دوبارا نہیں ملا 

 

ہم انجمن میں سب کی طرف دیکھتے رہے

اپنی طرح سے کوئی اکیلا نہیں ملا 

 

آواز کو تو کون سمجھتا کہ دور دور

خاموشیوں کا درد شناسا نہیں ملا 

 

قدموں کو شوق آبلہ پائی تو مل گیا

لیکن بہ ظرف وسعت صحرا نہیں ملا 

 

کنعاں میں بھی نصیب ہوئی خود دریدگی

چاک قبا کو دست زلیخا نہیں ملا 

 

مہر و وفا کے دشت نوردو جواب دو

تم کو بھی وہ غزال ملا یا نہیں ملا 

 

کچے گھڑے نے جیت لی ندی چڑھی ہوئی

مضبوط کشتیوں کو کنارا نہیں ملا 

 


 

Aandhi chali to naqsh-e-kaf-e-paa nahin mila

Dil jis se mil gaya, woh dubaaraa nahiN mila

Hum anjuman meiN  sab ki taraf dekhte rahe!

Apnii tarah se koii akelaa nahiN mila

Mehr-o-wafaa ke dasht nawardo, jawaab do

Tum ko bhi woh ghazaal mila ya nahiN mila

Aawaaz ko to kaun samajhta K door door

khaamoshiyoN ka dard shanaasa nahiN mila

Kachche ghaRe ne jeet li naddi chadhi hui

Mazboot kashtiyoN ko kinaara nahiN mila

(Mustafa Zaidi)

Read More

Kahi Bey Kanar Ratjage

October 19, 2016

.

کہیں بے کنار سے رت جگے
 کہیں زرن گار سے خواب دے
ترا کیا اصول ہے زندگی؟ 
مجھے کون اس کا حساب دے

جو بچھا سکوں ترے واسطے،
 جو سجا سکیں ترے راستے
مری دسترس میں ستارے رکھ،
 مری مٹھیوں کو گلاب دے

یہ جو خواہشوں کا پرند ہے
 اسے موسموں سے غرض نہیں
یہ اڑے گا اپنی ہی موج میں
 اسے آب دے کہ سراب دے

تجھے چھو لیا تو بھڑک اٹھے
 مرے جسم و جاں میں چراغ سے
اسی آگ میں مجھے راکھ کر،
 اسی شعل گی کو شباب دے

کبھی یوں بھی ہو ترے رو برو
 میں نظر ملا کے یہ کہہ سکوں
"مری حسرتوں کو شمارکر
مری خواہشوں کا حساب دے

تری اک نگاہ کے فیض سے
 مری کشتِ حرف چمک اٹھے
مرا لفظ لفظ ہو کہکشاں
مجھے ایک ایسی کتاب دے

.
Read More

Ab Samajh Ata Hai

October 19, 2016

.

اب سمجھ میں آتا ھے
پیار کی کہانی میں کِس جگہ ٹھرنا تھا
کِس سے بات کرنا تھی ؟ کِس کے ساتھ چلنا تھا ؟
کون سے وہ وعدے تھے ؟ جِن پے جان دینا تھی
کِس جگھہ بِکھرنا تھا ؟ کِس جگھہ مُکرنا تھا ؟
کِس نے اِس کہانی میں کِتنی دور چلنا تھا
کِس نے چڑھتے سورج کے ساتھ ساتھ ڈھلنا تھا
اب سمجھ میں آتا ھے
اُس نے جو کہا تھا سب ھم نے جو ُسنا تھا تب
کِس طرح ھلے تھے لب کِس طرح کٹی تھی شب
ھم نے ان ُسنی کر دی بات جو ضروری تھی
کِس قدر مکمل اور کِس قدر ادھوری تھی
وہ جو اِک اِشارہ تھا ذکر جو ھمارا تھا
وہ جو اِک کنایہ تھا جو سمجھ نہ آیا تھا
اب سمجھ میں آتا ھے
جان ھی کے دُشمن تھے جاں سے جو پیارے تھے
ھم جہاں پہ جیتے تھے اصل میں تو ھارے تھے
راہ جِس کو سمجھے ھم راستہ نہیں تھا وہ
واسطہ دیا جِس کو واسطہ نہیں تھا وہ
کِس نے رَد کیا ھم کو ؟ کِس نے کیوں بُلایا تھا ؟
جِس کو اِتنا سمجھے ھم کیوں سمجھ نہ آیا تھا ؟
اَب سمجھ میں آتا ھے
جب زندگی اَکارت ھے جو دِیر سے سمجھ آئی
زندگی کے بھیدوں کو ھم نے اب سمجھنا تھا
تَب سمجھ بھی آتی تو ھم نے کَب سمجھنا تھا
آنکھ جَب پگھل جاۓ اور -- شام ڈھل جاۓ
زِندگی کی مُٹھی سے رِیت جَب نِکل جاۓ
بھید اپنے جیون کا تَب سمجھ میں اتا ھے 
سب سمجھ میں آتا ھے 
اَب سمجھ میں آتا ھے

قاسم علی شاہ
.
Read More

Tuesday, 11 October 2016

Betyan wafaon jese hoti hain

October 11, 2016
.

.

بیٹیاں وفاوں جیسی ہوتی ہیں
تپتی زمیں پر آنسوؤں کے پیار کی صورت ہوتی ہیں
چاہتوں کی صورت ہوتی ہیں
بیٹیاں خوبصورت ہوتی ہیں
دل کے زخم مٹانے کو
آنگن میں اتری بوندوں کی طرح ہوتی ہیں
بیٹیاں پھولوں کی طرح ہوتی ہیں
نامہرباں دھوپ میں سایہ دیتی
نرم ہتھیلیوں کی طرح ہوتی ہیں
بیٹیاں تتلیوں کی طرح ہوتی ہیں
چڑیوں کی طرح ہوتی ہیں
تنہا اداس سفر میں رنگ بھرتی
رداؤں جیسی ہوتی ہیں
بیٹیاں چھاؤں جیسی ہوتی ہیں
کبھی بلا سکیں، کبھی چھپا سکیں
بیٹیاں اَن کہی صداؤں جیسی ہوتی ہیں
کبھی جھکا سکیں، کبھی مٹا سکیں
بیٹیاں اناؤں جیسی ہوتی ہیں
کبھی ہنسا سکیں، کبھی رلا سکیں
کبھی سنوار سکیں، کبھی اجاڑ سکیں
بیٹیاں تو تعبیر مانگتی دعاؤں جیسی ہوتی ہیں
حد سے مہرباں، بیان سے اچھی
بیٹیاں وفاؤں جیسی ہوتی ہیں

.
Read More

Thursday, 6 October 2016

Yun Lagta Hai ..

October 06, 2016

.

یوں لگتاہے جیسے.
حبس بےجا میں رکھا گیا مجھے
وحشت کی سولی چڑھاکر
تنہائی کی مار،مار کر
میری بےبسی کامزہ لیاگیا
یوں لگتاہےکہ جیسے پرکھا گیا مجھے
چاہتوں کی بھینٹ چڑھاکر
میری خوداری میری انا کو دباکر
مجھےمفلوج کردیا
جینامحال کردیا
یوں لگتا ہےکہ 
جیسے ذندہ رہنابھی 
ایک معمہ بن گیا ہو
جیسےوفا کا مطلب بدل گیاہو
عدو کے ہاتھوں شکست کھاکر
بےگوروکفن پڑی لاش کی مانند
اک اذیت میں جینا پڑ رہا ہے مجھے
حبس بےجا میں رہنا پڑ رہاہے مجھے
یوں لگتاہےجیسے
کڑا وقت ہے
 گزارنا پڑ رہا ہے مجھے
Read More

Main ney iss toor sey chaha tujhe

October 06, 2016

.

ﺗُﻮ ﻧﮯ ﺍُﺱ ﻣﻮﮌ ﭘﮧ ﺗﻮﮌﺍ ﮨﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﮐﮧ ﺟﮩﺎﮞ
ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ

ﺍﺏ ﯾﮧ ﻋﺎﻟﻢ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮭﻠﯿﮟ ﮔﯽ ﺍﭘﻨﯽ
ﯾﺎﺩ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﺩﯾﺪ ﮐﺎ ﻣﻨﻈﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ

ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﮔﺎ ﺗِﺮﮮ ﻋﮩﺪِ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ
ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺠﺮﺍﮞ ﮐﺎ ﺩﮨﮑﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﻣﺤﺸﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ

ﯾُﻮﮞ ﻣِﺮﮮ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺗﯿﺮﺍ ﻏﻢ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ
ﺟﯿﺴﮯ ﺷﯿﺸﮯ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻞ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺘﮭﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ

ﺟﯿﺴﮯ ﻣﮩﺘﺎﺏ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺍﻧﺖ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﭼﺎﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍِﺱ ﻃَﻮﺭ ﺳﮯ ﭼﺎﮨﺎ ﺗﺠﮭﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ

.
Read More

Post Top Ad

Your Ad Spot