The Poetry Collections: Sad

Hot

Post Top Ad

Your Ad Spot
Showing posts with label Sad. Show all posts
Showing posts with label Sad. Show all posts

Thursday, 27 November 2014

Zindagi Kya Hai...

November 27, 2014


.
زندگی کیا ہے؟
اسے بھلا کوئی کب سمجھا ہے۔۔
اور موت۔ ۔ ۔؟
موت تو بر حق ہے۔۔
بر حق کیا ہوتا ہے؟
وہ جسے ٹالا نہ جا سکے۔۔
تو اٹل موت کا آنا ہے؟
ہر نفس کو یہ ذائقہ چکھنا ہے۔۔
تو پھر یہ ڈر کیسا ہے؟
انساں غفلت میں کھویا ہے۔۔
موت تو جدائی ہے؟
اسے کب نارسائی ہے۔۔
اپنوں سے جدائی کب برداشت ہوتی ہے؟
اس کے لیے صبر کی سدا ہوتی ہے۔۔
صبر کیسے پر حاصل ہو؟
جب انا للہ و انا الیہ راجعون پہ یقین کامل ہو۔۔
یقین تو ہے پر۔۔۔؟
پر تیاری نہیں۔۔
زندگی کے کم جھمیلے ہیں؟
جھوٹے سارے میلے ہیں۔۔
یہ رعنائیاں پھر بھی پیاری ہیں؟
انہی سے پاک ہونا تیاری ہے
کیا یہ آسان ہے؟
یہ تو تیرا امتحان ہے۔۔
امتحان تو مشکل لگتا ہے؟
خُدا آسانی کرتا ہے۔۔
روکے مجھے بہت سے ریلے ہیں؟
یہ تو زندگی کے جھمیلے ہیں۔۔
اور زندگی کیا ہے۔۔؟
اسے کوئی کب سمجھا ہے۔
۔
Read More

Monday, 24 November 2014

Karobar e ulfat main .....

November 24, 2014

.

شہر کے دوکاندارو!
کاروبارِ الفت میں
سود کیا زیاں کیا ہے؟
تم نہ جان پاؤ گے
دل کے دام کتنے ہیں؟
خواب کتنے مہنگے ہیں؟
اور نقدِ جاں کیا ہے؟
تم نہ جان پاؤ گے
کوئی کیسے ملتا ہے؟
پھول کیسے کھلتا ہے؟
آنکھ کیسے جھکتی ہے؟
سانس کیسے رُکتی ہے؟
کیسے راہ نکلتی ہے؟
کیسے بات چلتی ہے؟
شوق کی زباں کیا ہے؟
تم نہ جان پاؤ گے
وَصل کا سکوں کیا ہے؟
ہجر کا جنوں کیا ہے؟
حسن کا فسوں کیا ہے؟
عشق کے دروں کیا ہے؟
تم مریضِ دانائی
مصلحت کے شیدائی
راہِ گمراہاں کیا ہے؟
تم نہ جان پاؤ گے
زخم کیسے پھلتے ہیں؟
داغ کیسے جلتے ہیں؟
درد کیسے ہوتا ہے؟
کوئی کیسے روتا ہے؟
اشک کیا ہیں نالے کیا؟
دشت کیا ہیں چھالے کیا؟
آہ کیا فغاں کیا ہے؟
تم نہ جان پاؤ گے
نا مُرادِ دل کیسے
صبح شام کرتے ہیں؟
کیسے زندہ رہتے ہیں؟
اور کیسے مرتے ہیں؟
تم کو کب نظر آئی؟
غمزدوں کی تنہائی
زیست بے امان کیا ہے؟
تم نہ جان پاؤگے
جانتا ہوں میں تم کو
ذوقِ شاعری بھی ہے
شخصیت سجانے میں
اک یہ ماہری بھی ہے
پھر بھی حرف چنتے ہو
صرف لفظ سنتے ہو
ان کے درمیاں کیا ہے؟
تم نہ جان پاؤ گے...
Read More

Tuesday, 11 November 2014

ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﮭﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﮈﺭ ﮐﯿﺴﺎ...

November 11, 2014
 
.
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﮭﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﮈﺭ ﮐﯿﺴﺎ
ﮐﮧ ﮐﮭﻮﯾﺎ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﺟﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﮞ
ﻣﯿﺴﺮ ﮨﻮﮞ...!!


.
Read More

Monday, 10 November 2014

Ek Chand Tanha Khara Raha

November 10, 2014
۔



۔

ایک چاند تنہا کھڑا رہا، میرے آسمان سے زرا پرے۔۔۔
میرے ساتھ ساتھ سفر میں تھا،میری منزلوں سے زرا پرے۔۔۔

تیری جستجو سے ،تیرے خواب تیرے خیال سے۔۔۔
میں وہ شخص ہوں جو کھڑا رہا، تیری چاھتوں سے زرا پرے۔۔

کبھی دل کی بات کہی نہ تھی،جو کہی وہ بھی دبی دبی۔۔
میرے لفظ پورےتو تھے مگر،تیری سمتوں سے زرا پرے۔۔۔

تو چلا گیا میرے ھمسفر،زرا دیکھ مڑ کہ تو ایک نظر۔۔
میری کشتیاں ہیں جلی ہوئی۔تیرے ساحلوں سے زرا پرے۔۔
۔



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Ek Chand Tanha Khara Raha Mere Aasman Se Zara Parey.
Mere Saath Saath Safar Me Tha, Meri Manzilon Se Zara Parey.

Teri Justuju K Hassar Se, Tere Khuwab Tere Khayal Se.
Me Wo Shakhs Hun Jo Khara Raha, Teri Chahaton Se Zara Parey.

Kabhi Dil Ki Baat Kehi Na Thi, Jo Kehi To Wo Bhi Dabi Dabi.
Mere Lafz Poore To The Magar, Teri Samaton Se Zara Parey.

Tu Chala Gaya Mere Hamsafar, Zara Dekh Murr K Tu Ik Nazar.
Meri Kashtiyan Hain Jali Hui, Tere Sahiloon Se Zara Parey!! 
۔

Read More

جو کچھ بھی کہا تھا

November 10, 2014
.


.

جو کچھ بھی کہا تھا
مری تنہا ئی نے تجھ سے
اس شہر کی دیوار پہ
لکھا بھی وہی ہے
وہ جس نے دئیے
مجھ کو محبت کے خزانے
بادل کی طرح آنکھ سے
برسا بھی وہی ہے

Read More

Sunday, 9 November 2014

دِیا خودسےبجھا دینا...

November 09, 2014
.
 
*
دِیا خودسےبجھا دینا...
ھوا کو اور کیا دینا...
ستارے نوچنے والو...

فلک کو آسرا دینا....
کبھی اس طورسے ھنسنا...
کہ دنیا کو رُلا دینا..
کبھی اس رنگ سے رونا...
کہ خود پہ مسکرا دینا...
میں تیرا برملا مجرم...
مجھے کھل کرسزا دینا..
میں تیرا منفرد ساتھی..
مجھے ھٹ کر جزا دینا..
میرا سَر سب سے اونچا ھے..
مجھے مقتل بھی نیا دینا....
مجھے اچھا لگا محسن....
اُسےپا کر گنوا دینا...
.
Read More

ﮐِﺘﻨﮯ ﺁﺋﯿﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍِﮎ ﻋﮑﺲ ﺩﮐﮭﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﻣُﺠﮭﮯ

November 09, 2014

.
*
ﮐِﺘﻨﮯ ﺁﺋﯿﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍِﮎ ﻋﮑﺲ ﺩﮐﮭﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﻣُﺠﮭﮯ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻧﮯ ﺟﻮ ﺍﮐﯿﻼ ﮐﺒﮭﯽ ﭘﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ

ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﻮﺗﯽ ﮐﮧ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺷﻌﻠﮧ ﺯﻥ ﺗﮭﺎ

ﻣَﯿﮟ ﻭﮦ ﺁﻧﺴﻮ ﮐﮧ ﺳﺮِ ﺧﺎﮎ ﮔﺮﺍﯾﺎ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ

ﺍِﺗﻨﯽ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﮯ ﺷﺐ، ﻟﻮﮒ ﮈﺭﮮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ

ﺍﻭﺭ ﻣَﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐِﺲ ﻧﮯ ﺑﻼﯾﺎ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ

ﯾﮧ ﺍﻟﮓ ﺑﺎﺕ ﮐﮧ ﻣﭩّﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﺍ ﺭُﻟﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﯾﻮُﮞ ﺗﻮ ﻓﻦ ﮐﺎﺭ ﻧﮯ ﺷﮧ ﮐﺎﺭ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ


ﺍﭘﻨﺎ ﺍﺩﺭﺍﮎ ﮨﮯ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﺧُﺪﺍ ﮐﺎ ﺍﺩﺭﺍﮎ
ﺷﺎﯾﺪ ﺍﺱ ﺧﻮﻑ ﻧﮯ ﺧُﻮﺩ ﻣُﺠﮫ ﺳﮯ ﭼﮭُﭙﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ


ﺍﮮ ﺧﺪﺍ، ﺍﺏ ﺗﯿﺮﮮ ﻓﺮﺩﻭﺱ ﭘﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﻖ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﻧﮯ ﺍِﺱ ﺩَﻭﺭ ﮐﮯ ﺩﻭﺯﺥ ﻣﯿﮟ ﺟﻼﯾﺎ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ

.
************
.
Read More

Saturday, 8 November 2014

تمہارے بن ادھورا ہوں

November 08, 2014
 .

.
*
تمہارے بن ادھورا ہوں
مُجھے تم سے محبت ہے
مری راحت تمہی ہو بس
مرے چاہت تمہی ہو بس
تمہیں پانے کی خواہش ہے

سنور جانے کی خواہش ہے
ترے بن آہ بھرتا ہوں

میں تیری راہ تکتا ہوں
-
Read More

مسيحا ہو....؟؟ تبھی جذبات کی دھڑکن کو فورا جان لیتے ہو..

November 08, 2014
 .

.
*

مسيحا ہو....؟؟
تبھی جذبات کی دھڑکن کو
فورا جان لیتے ہو
کبھی الفاظ کی نبضوں کو
اپنی نرم سانسوں سے
چھو کے بھول جاتے ہو
کہ ان لفظوں کے سینے میں بھی
آخر دل دھڑکتے ہیں
سنو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
یہ بات کرتے ہیں
رکو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
آواز دیتے ہیں
یہ جذبے سانس لیتے ہیں
تو جب تم دور جاتے ہو
جب ان کو بھول جاتے ہو
تو دھڑکن روٹھ جاتی ہے
تو نبضيں ڈوب جاتی ہیں
یہ سانسيں ٹوٹ جاتی ہیں
مسيحا ہو...؟
تو پھر ان کو
شفا تم کیوں نہیں دیتے.۔۔۔۔۔۔۔!!!
****************
.
Read More

Sunday, 2 November 2014

" خزاں کا موسم ہی بہار کا موسم ہے "

November 02, 2014



٭
" خزاں کا موسم ہی بہار کا موسم ہے "
پٹ جھڑ کے موسم میں .....
خزاں میں......
جب درختوں کے پتے جھڑ جاتے ہیں ...
درخت ہلکے ہو جاتے ہیں ....
گھاس سکڑ جاتی ہے ....
تب ان حسین وادیوں میں ......
جگہ جگہ سر سبزے کے درمیان .....
ڈھکی چپھی ہوئی ندیاں،جھرنے ......
واضح طور پہ نظر آنے لگتے ہیں ...
ان کی آواز دور دور تک سنائی دینے لگتی ہے .
اسی طرح انسان کے بھی جب گناہ......
ان پتوں کی طرح جھڑ جائیں ......
تو انسان ہلکہ ہو جاتا ہے ....
اس کی ذات کے اندر ......
حسین وادی میں موجود ........
میٹھے پانی کی ندیاں اور بہتے جھرنے .....
صاف اور واضح نظر آنے لگتے ہیں ....
ان کی آواز ......
صاف اور واضح خود کو بھی سنائی دیتی ہے .....
اور دور اور پاس کے قرابت داروں کو بھی

۔ .
Read More

Sunday, 27 July 2014

میرا اساسہ....

July 27, 2014

.
*
.


*
.

میرا اساسہ

کچھ وعدے قسمیں یادیں تھیں

کچھ کہکے تھے فریادیں تھیں
کچھ انسو تھے جو بہہ گیے
کچھ دھوکھے تھے جو کھاے تھے
کچھ لہجوں کی پرچھیاں تھیں
کچھ دل کو روگ لگاے تھے
اب پاس ہمارے کچھ بھی نہیں
اب اس کے مارے کچھ بھی نہیں
بس۔۔۔۔۔
یادوں کی زنجیریں ہیں۔۔۔۔
کچھ رنگ اڑی تصویرں ہیں۔۔۔
کچھ لفظ مٹی تحریریں ہیں
اک دل جو دید کا پیاسا ہے
بس یہ ہی میرا اساسہ ہے---
.
***************
.
Read More

کبھی عشق ہو تو پتہ چلے.......!!

July 27, 2014
.
*
.


.
*
.
کبھی عشق ہو تو پتہ چلے.......!!
کہ بساط جاں پہ عذاب اترتے ہیں کس طرح
شب و روز دل پہ عتاب اترتے ہیں کس طرح
کبھی عشق ہو تو پتہ چلے
یہ لوگ سے ہیں چھپے ہوئے پس دوستاں
تو یہ کون ہیں
یہ روگ سے ہیں چھپے ہوئے پس جسم و جاں
تو یہ کس لئے
یہ جو کان ہیں میرے آہٹوں پہ لگے ہوئے
تو یہ کیوں بھلا
یہ ہونٹ ہیں صف دوستاں میں سلےہوئے
تو یہ کس لئے
یہ جو اضطراب رچا ہواہے وجود میں
تو یہ کیوں بھلا
یہ جو سنگ سا کوئی آ گرا ہے جمود میں
تو یہ کس لیے
یہ جو دل میں درد چھڑا ہوا ہے لطیف سا
تو یہ کب سے ہے
یہ جو پتلیوں میں عکس ہے کوئی لطیف سا
سو یہ کب سے ہے
یہ جو آنکھ میں کوئی برف سی ہے جمی ہوئی
تو یہ کس لیے
یہ جو دوستوں میں نئی نئی ہےکمی ہوئی
تو یہ کیوں بھلا
یہ لوگ پیچھے پڑے ہوئے ہیں فضول میں
انہیں کیا پتہ
انہیں کیا خبر
کسی راہ کہ کسی موڑ پر جو ذرا انہیں
کبھی عشق ہو تو پتہ چلے.......!!
Read More

Friday, 25 July 2014

کُھلی جو آنکھ ، تو وہ تھا، نہ وہ زمانہ تھا

July 25, 2014

*
.


.

*

کُھلی جو آنکھ ، تو وہ تھا، نہ وہ زمانہ تھا
دہکتی آگ تھی، تنہائی تھی، فسانہ تھا

غموں نے بانٹ لیا تھا مجھے یوں آپس میں
کہ جیسے میں کوئی.... لُوٹا ہُوا خزانہ تھا

یہ کیا کہ چند ہی قدموں پہ تھک کے بیٹھ گئے
تُمھیں تو ساتھ مِرا دُور تک نِبھانا تھا....

مجھے، جو میرے لہو میں ڈبو کے گزُرا ہے
وہ کوئی غیر نہیں، یار اِک پُرانا تھا

خود اپنے ہاتھ سے اُس کو کاٹ دِیا
کہ جس درخت کی ٹہنی پہ آشیانہ تھا

.

***************************
Read More

بھڑکے ہوئے شعلوں کو ہوائیں نہیں دیتے

July 25, 2014

*
.

.

*

بھڑکے ہوئے شعلوں کو ہوائیں نہیں دیتے
جاتے ہوئے لمحوں کو صدائیں نہیں دیتے
 
مانا یہی فطرت ہے مگر اس کو بدل دو
بدلے میں وفاؤں کے جفائیں نہیں دیتے
 
گر پھول نہیں دیتے تو کاٹتے بھی تو مت دو
مُسکان نہ دینی ہو تو آہیں نہیں دیتے
 
تم نے جو کیا، اچھا کیا، ہاں یہ گلا ہے
منزل نہ ہو جس کی تو وہ راہیں نہیں دیتے
 
یہ بار کہیں خود ہی اُٹھانا نہ پڑے کل
اوروں کو بچھڑنے کی دعائیں نہیں دیتے
 
.
**********************

۔
Read More

اَنا کی بات جانے دو....

July 25, 2014

*
.


.

*

اَنا کی بات جانے دو
اَنا تو اس گھڑی ہم نے گنوا دی تھی
تمھیں جس پل کہا اپنا
ہتھیلی پر تمھارا نام لکھا تھا، حنا سے جس گھڑی ہم نے
تمھیں پلکوں پہ حیرت کی جگہ ہم نے سجایا تھا
ہمیں ہم سے ہی جب تم نے چرایا تھا
تمھیں جب دل نے دھڑکن میں بسایا تھا،
تمھیں اپنا بنایا تھا
” ہمیں تم سے محبت ہے“
تمھیں سرگوشیوں میں جس گھڑی ہم نے بتایا تھا
اَنا کی بات جانے دو
اَنا تو اس گھڑی ہم نے گنوا دی تھی
اَنا کی بات جانے دو
.
*******************************
.
Read More

Tu ne nafrat se jo dekha hai to to yaad aya,

July 25, 2014

*

.

.

Tu ne nafrat se jo dekha hai to to yaad aya,
Kitne rishte teri khaatir yunhi torr aya hoon,

Kitne dhundhley hain yeh chehre jinhe apnaaya hai,
Kitni ujli theen woh ankhen jinhe chorr aya hoon..

.
**************
Read More

گھروندے ریت کے اکثر ہوا سے ٹوٹ جاتے ہیں

July 25, 2014
*
.

.

گھروندے ریت کے اکثر ہوا سے ٹوٹ جاتے ہیں
کہ جسموں سے جڑے رشتے عموماً چھوٹ جاتے ہیں

جو رشتہ ہے تو روح کا ہے جو بندھن ہے تو دل کا ہے
سمجھائیں جنہیں ہم یہ وہ ہم سے روٹھ جاتے ہیں

جو بندھن خود سے جڑتے ہیں وہی مضبوط ہوتے ہیں
زبردستی سے جوڑے رشتے اکثر چھوٹ جاتے ہیں

نہ رہ کے تم عدو ڈالو شیشے کے مکانو ں میں
کہ پتھر ان سے ٹکرائیں تو شیشے ٹوٹ جاتے ہیں

نہ دل میں دو جگہ کوئی کسی بھی بد گمانی کو
محبت میں ہو شک همدم تو ساتھی چھوٹ جاتے ہیں
 
.
 
*********************
.
Read More

Friday, 18 July 2014

تمہاری یاد کا موسم

July 18, 2014


٭
۔

۔

تمہیں معلوم تو ہوگا
سبھی موسم بدلتے ہیں
کبھی تپتی دوپہریں جون کی
تن من جلاتیں ہیں
کبھی یخ بستہ راتوں کا
دسمبر لوٹ آتا ہے
کبھی پت جھڑ کا موسم خون پیتا ہے درختوں کا
کبھی سُوکھی ہُوئی شاخوں پہ کلیاں کھلکھلاتیں ہیں
خزاں کا دم نکلتے ہی
بہاریں مسکراتیں ہیں

تمہیں معلوم تو ہوگا
سبھی موسم بدلتے ہیں
مگر یہ بھی حقیقت ہے
ہمارے دِل کے آنگن میں
کسی صُورت نہیں بدلا
تمہاری یاد کا موسم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔
Read More

کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو میں نے جیون وار دیا

July 18, 2014


٭

۔

کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو میں نے جیون وار دیا
میں کیسا زندہ آدمی تھا اک شخص نے مجھ کو مار دیا

ایک سبز شاخ گلاب کی تھی اک دنیا اپنے خواب کی تھی
وہ ایک بہار جو آئی نہیں اس کے لئے سب کچھ ہار دیا

یہ سجا سجایا گھر ساتھی مری ذات نہیں مرا حال نہیں
اے کاش کبھی تم جان سکو اس سکھ نے جو آزار دیا

میں کھلی ہوئی اک سچائی مجھے جاننے والے جانتے ہیں
میں نے کن لوگوں سے نفرت کی اور کن لوگوں کو پیار دیا

وہ عشق بہت مشکل تھا مگر آسان نہ تھا یوں جینا بھی
اس عشق نے زندہ رہنے کا مجھے ظرف دیا پندار دیا
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
۔
Read More

ہر طرف ہے چرچا تیری بے وفائی کا

July 18, 2014




٭


ہر طرف ہے چرچا تیری بے وفائی کا
اچھا صلہ دیا تم نے آشنائی کا

جو رہتا تھا اس دل کے انگن میں
کھیل کھیلا ہے اس نے ہرجائی کا

اک آہٹ سی ہو جاتی ہے
جب ہوتا ہے ذکر تیری شناسائی کا

کر لئے ہیں لب کشیدہ اس ناکام الفت سے
ہو نہ جائے تذکرہ اس کی رسوائی کا

۔
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
 
۔
Read More

Post Top Ad

Your Ad Spot