The Poetry Collections: STORIES

Hot

Post Top Ad

Your Ad Spot
Showing posts with label STORIES. Show all posts
Showing posts with label STORIES. Show all posts

Thursday, 11 August 2022

LELA MAJNON

August 11, 2022

 ۔

LELA MAJNON

English Translate

History has immortalized the stories and legends of the city of "Layli" in Saudi Arabia. This city, which has an eternal story of love around the world, is located 300 kilometers south of the Saudi capital Riyadh in the "Al-Aflaj" district.

The name of the mentioned city is attributed to the name of "Layli", the beloved of "Qais" in a famous love story of Arab history. According to historians, the incident of "Qais and Laila" took place in the first century of Hijri, i.e. between 24 AH to 68 AH (645 AH to 688 AH). That time, during the Umayyad period, was the time of the rule of Marwan bin Al-Hakim and Abdul Malik bin Marwan.

In Arab history, there are two lovers named Qais. Among them, the first "Qays bin Al-Maluh" was the lover of Laila, who is being mentioned in these lines, while the second "Qays bin Zareeh" was in love with another woman, "Libni".

Among the titles bestowed upon Qays ibn al-Maluh, "Majnaun" is the most famous. He was not a madman but was given this name because of his mad love for his beloved Laila Al-Amaria. Qais grew up with his beloved Laila and fell in love with her, but Laila's family refused to marry him to Qais. As a result, Qays used to recite poems related to Layla in Najd, Syria, and Hijaz in the guise of diwans.

Laila's family married their daughter to a male relative who took her to Taif. However, the grief of Laila's separation took a toll on Qais's face and he began to wander around the land.

It is said that Qays' father took his son on Hajj to pray to Allah that his son would come out of the disease of Laila's love. On reaching Baitullah, Qais' father said to his son, "Go and hold the cover of Baitullah and pray that Allah will save you from the love of Laila." Qays went and holding the cover of Baitullah started praying, "O Allah, increase the love of Laila in my heart and I will never forget her".

"Jabal-e-To bad" located in Wadi al-Ghail near the city of Laili in Saudi Arabia became immortalized in history because of Qais bin Al-Maluh. On this mountain, there is a cave called "Ghar-i Qais". It was a meeting place for lovers. New age lovers have written their names on its walls.

Many famous Arab poets have mentioned this "Mountain of Repentance" in their poetry.

People from the Indian community in Riyadh frequently visit this mountain and write their names on the wall of the famous cave. The reason for this is that in an Indian TV report, pictures of Jabal-e-Tobad were shown along with the story of Leila Majnu.

Some figures who draw attention to Arabic literature have demanded that the site be re-corrected, especially as it has been disfigured by different colored writings. According to these personalities, in this way, this place will be able to bring back the memory of the story of love immortalized in history

Read More

Thursday, 3 March 2022

Apni ZIndgi Ko Kesy Kamiab Banayen

March 03, 2022

اپنی زندگی کو کیسے کامیاب بنائیں

 
زندگی کسی کی بھی آسان نہیں ہوتی ۔ ہر انسان اپنے دائیرے میں اپنی ہی الجھنوں کا شکار ہے ۔ہر شخص کامیاب انسان بنا چاھتا ہے ۔۔عزت دولت حاصل کرنا چاھتا ہے ۔۔لیکن کچھ لوگ ہی کامیاب ہوپاتے ہیں باقی کامیابی کے لئے سر توڑ کوشیش کرتے نظر آتے ہیں۔

ZINDAGI



زندگی کسی کی کامیاب اور مکمل نہیں لیکن اسے کامیاب بنانے کے لئے ان تھک محنت ضروری ہے ۔اسے پانے کے لئے جستجو اور کوشیش کرنی ضروری ہے۔۔ اپنے مقصد کے حصول کے لئے مستقل کوشیش کرتے رہنا اور تحقیق و جستجو میں مصروف رہنا ہی کامیابی کی کنجی ہے ۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ اپنی تحقیق کا رخ اسی سمت رکھیں جسے حاصل کرنا چاھتے ہیں ۔۔کامیابی ایک دن ضرور آپ کے دروازے پے دستک دے گی۔۔

مستقل کوشیش

لوگوں کے نزدیک آپ پاگل خبطی بےوقوف بھی ہوسکتے ہوں۔۔لیکن اپنے کام سے عشق ہی آپ کو کامیاب کرواتا ہے ۔۔عام لوگوں سے بلکل الگ کرتا ہے ۔ اگر آپ مستقل ناکام ہو رہے ہیں تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ اہم امور کو (پوائینٹ) نظر انداز کر رہے ہیں۔۔ آپ کی کوشیش میں آپ کی صلاحیت میں کچھ کمی ہے جو آپ نظر انداز کر رہے ہیں ۔۔ بغیر علم کے کامیابی ممکن نہیں ۔

simt

آپ ایڈیسن کو ہی دیکھ لیں ۔۔ اگر ایڈیسن بلب بنانے میں متعد بار تجربہ نہ کرتا تو دنیا آج اتنی ترقی یافتہ اور روشن نہ ہوتی ۔ نہ ہی تیز رفتار ٹرین چلتیں نہ ہی انٹرنیٹ اور موبائیل سے رابطے آسان ہوتے۔ آپ درخت کو ہی دیکھ لیں ، بیج سے درخت بن جانے کا سفر ۔۔ یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے ۔ آپ نے صرف اپنا کام وقت پے کرنا ہے اپنے کام کو ایک بیج جیسا تصور کریں ۔۔ایک بچے جیسا اس کا خیال رکھیں ۔۔چھوٹے چھوٹے سے خیالات اور سوالوں کے جوابات دریافت کریں یہی آپ یہی عادت کو کامیابی کی سمت آگے بڑھنے میں مدد دیں گے ۔

خود کو چیلنج دیں
دوستوں ہماری پوری زندگی ایڈونچر سے بھری ہوئی ہے ,زندگی میں ایڈوینچر نہ ہو تو زندگی میں مزا نہیں ہے ۔۔انسان خود اپنی زندگی کی روٹین سے عاجز ہوجاتا ہے انسان زندگی میں بدلاو چاھتا ہے اور یہی انسانی فطرت بھی ہے ۔

دوستوں اپنے بچپن کے بارے میں سوچیں جب آپ اپنے کلاس فیلو کے ساتھ چیلنج کیا کرتے تھے کون سب سے پہلے یاد کرتا ہے ، کون سب سے پہلے لکھتا ہے یا ریس(دوڑ) میں کون اول آتا ہے ۔۔

یہ زندگی ایک ریس ہی ہے ، سب ایک دوسرے سے آگے بڑھنے میں سرگرم مصروف ہیں ۔ آپ خود سے مقابلہ کریں ۔خود کو ٹارگٹ دیجیے آنکھیں بند کر کے آپ خود کو آگلے پانچ سال بعد کہا دیکھنا چاھتے ہو ۔اپنے آپ کو محسوس کیجئے کہ پانچ بعد آپ خود کو کہاں دیکھنا چاھتے ہو ۔۔اور اپنے ٹارگٹ کی کامیابی کے لئے کوشیش شروع کردو ۔۔ اپنی زندگی کو مقصد دو ۔

دوستوں کامیابی زندگی میں بار بار دستک دیتی ہے ۔۔ لیکن کچھ آپ اپنی ذاتی عادات اور فطرت کی طرف بھی دیھان دیں ۔۔کامیاب ہونے کے لئے پہلے خود اپنی شخصیت پے کام کیجئے خود کو جانیں خود کو دیکھیں آپ کہاں کھڑے ہیں ۔ آپ اپنی خوبیوں اور خامیوں کو لکھیں اپنی شخصیت پے کام کریں۔ اپنی کام کی صلاحتوں میں اضافہ کرے زندگی ہمیں کامیابی کے کئی موقع دیتی ہے۔ جسے استعمال کرکےہم اپنی زندگی کو مزید خوبصورت بنا سکتے ہیں ۔ کبھی کبھی ہماری اچھی عادات بھی ہماری ناکامی کا سبب بن سکتی ہے جیسے ہم کسی کو کام کرنے سے کبھی انکار نہیں کرسکتے ۔ جیسے ہم آرام پسند ہیں اور ہماری سستی کی بری عادت ہمیں ناکامی کی طرف دوبارہ دھکیل دیتی ہے یا آگے بڑھنے نہیں دیتی۔۔ آج ہم اسی رخ کی طرف بات کریں گے کہ ایسی کونسی غلطیاں ہیں جو ہم جانے انجانے کرتے چلے جا رہے ہیں اور قصور وار ہم وقت اور قسمت کو ٹھراتے ہیں

رسک لینے کے لئے تیار رہنا

 

دوستوں کوئی بھی شخص دنیا میں جب آتا ہے  وہ علم سے خالی ہوتا ہے اس کی دنیا ۔۔ اس کا اثاثہ اس کے ماں باپ اور گھر والے ہوتے ہٰیں ۔۔ گھر سے باہر قدم رکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے دنیا تو کچھ اور ہی ہے ۔۔ پھر جیسے جیسے انسان لوگوں سے انسان ملتا ہے وہ اپنے تجربات سے دنیا کو اپنے انداز میں بیان کرتا ہے۔

یاد رکھیں رسک میں ہمیشہ نقصان ہے ۔لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان کوشیش کرنا چھوڑ دے اور کچھ نیا نہ سیکھیں ۔۔انسان کو ہر دن کچھ نہ کچھ ضرور سیکھنا چاھئے ،اچھی کتابیں پڑھیں اچھے لوگوں کے ساتھ دوستی کریں ۔ انہیں اہمیت دیں  ۔ آپ جو کام کرچاھتے ہیں اس بارے میں جاننا شروع کردیں ۔۔ جتنا آپ  ریسرچ کرو گے ۔ اتنا ہی  ناکامی سے  بچنے کے راستے ملتے جائیں گے ۔۔ پھر آپ کو ترقی کی اونچائی پے پہچنے سے کوئی روک نہیں سکتا ۔ 

 یاد رکھیں علم کی روشنی ہی کامیابی  کی کامیابی کی ضمانت  ہے ۔۔ اور روشنی کے سفر میں گرنے کا امکان کم ہی  ہوتے ہیں ۔۔ کیونکہ انسان جب بھی گرتا ہے۔۔لاعلمی میں گرتا ہے ۔۔

اور لوگ خوش ہوتے ہیں جب کوئی گرتا ہے ۔لاعلمی اندھیرا ہے جس  میں سامنے پڑی شے بھی نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔انسان جب بھی ناکام ہوتا ہے اپنی لاعلمی یا کم علمی کے باعث ہی ہوتا ہے ۔

 لوگ لاعلمی کا فائدہ اٹھانے کے ماہر ہیں ۔۔اس لیے کوئی بھی کام شروع کرو اس  کے بارے میں جاننا شروع کریں ۔۔ جتنا آپ معلومات حاصل کرو گے  رسک کم ہوتا جائے گا ۔ 

دوستوں لاعلمی جہالت ہے ۔۔ اگر آپ کہیں انجان جگہ جانے کا ارادہ رکھتے ہو تو وہاں کے موسم اور رہنے کے بارے میں مکمل واقفیت حاصل کریں تاکہ مقامی لوگ  آپ کی لاعلمی کا فائدہ نہ اٹھا لیں ۔۔ اور جب بھی کوئی کاروبار کرنے کا سوچیں تو اس بارے میں بھی ہر زاویے سے تحقیق کریں ۔۔ اور اپنا کام خود کرنے کی عادت ڈالیں ۔۔ لمبے سفر سے خواری سے  کبھی نہ گھبرائیں ۔

 اپنے کاروبار کی ترقی کے لئے سیکھتے رہیں ۔اپنی ذات پے کام شروع کریں ۔۔ جتنا آپ سیکھتے جاو گے لوگوں کی مدد کی کم ضرورت پڑے گی۔ بلکہ آپ  خود کو اس فیلڈ کا استاد بنا لیں کہ لوگ آپ سے مشورے لیں ۔۔

ایک کامیاب زندگی کو پانے کے لئے ان تھک محنت کے ساتھ کئی بار رسک بھی لینا پڑتا ہے ۔۔ اپنے شوق کو خواہشات کو قربان کرنا پڑتا ہے کیونکہ کامیابی کا تاج بغیر قربانی کے ملنا مشکل ہے۔

دوستوں کوئی بھی شخص دنیا میں جب آتا ہے  وہ علم سے خالی ہوتا ہے اس کے دنیا۔ اس کا اثاثہ اس کے ماں باپ اور گھر والے ہوتے ہٰیں ۔۔ گھر سے باہر قدم رکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے دنیا تو کچھ اور ہی ہے ۔۔ پھر جیسے جیسے انسان لوگوں سے انسان ملتا ہے وہ اپنے تجربات سے دنیا کو اپنے انداز میں بیان کرتا ہے۔۔

اگر آپ رسک لینا نہیں چاھتے تو جو کام کرنا چاھتے ہو اس بارے میں ذیادہ  ذیادہ معلومات جمع کریں کہ کوئی آپ کو دھوکا نہ دے سکے ۔۔

      

  مستقل مزاجی  کا اصول اپنائیں 

 

دوستوں آپ کتنے ہی محنتی کیوں نہ ہوں اگر آپ میں صبروتحمل  اور مستقل مزاجی نہیں ہے  تو آپ کبھی کامیاب نہیں ہوسکیں گے ۔۔ ہر کام کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے ۔۔اسی طریقے پے عمل کرنا ہوتا ہے انتطار کرنا ہوتا ہے۔اس  دائرے سے باہر جاو گےناکام رہوگے۔


دوستوں دنیا میں ٹیلینٹیڈ  اور ذہین لوگوں کی کمی نہیں ۔۔ کبھی سوچا ہے کہ کم ٹیلنٹیڈ لوگ ہی دنیا میں کیوں  کامیاب ہوتے ہیں ۔۔ کیونکہ وہ مستقل مزاج ہوتے ہیں۔ خود پے بےجا فخر نہیں کرتے ۔ یہ لوگ اپنا کام خاموشی سے کرتے ہیں۔ صرف ڈسپلین کی عادت ہی کامیابی کی کنجی  ہے    ۔


 انسان جلد باز ہے اسے ہر کام کی جلدی ہوتی ہے یاد رکھیں کامیابی کا سفر صفر سے شروع ہوتا ہے ۔۔ ایک ایک سیڑھی چڑھ کر ہی کامیابی کی سیڑیاں پار کرتے ہیں  ۔۔ آپ جس وقت اپنے سفر کی ابتدا کریں گے لوگ آپ کو سمجھائیں گے آپ کو پاگل بھی کہیں گے ۔۔ یاد رکھیں شورٹ کٹ سے کامیابی جتنی جلدی ملتی ہے اتنی جلدی چھین جانے کے امکان بھی ذیادہ ہوتے ہے     


آپ سورج کو ہی دیکھ لیں یہ  کتنی ڈسپلین کے ساتھ صبح طلوع ہوکر مغرب میں  غروب ہوجاتا ہے ۔۔ سمجھنے والوں کے لئے اس میں نشانیاں ہیں ۔۔ اگرآپ خود کو کامیاب دیکھنا چاھتے ہو، تو سورج کے ساتھ  اپنی صبح کا آغاز کرو۔ جن کے خواب  بڑے ہوتے ہیں وہ کم ہی سویا کرتے ہیں ۔۔ اور ایسے لوگوں کا وقت  وقت تحقیق و تجسس میں گزرتا ہے ۔۔


دوستوں اگر کامیابی مطلوب ہے تو اپنے مزاج میں ڈسپلن پیدا بیدار کریں صبر و تحمل کے ساتھ اپنے علم میں اضافی کریں اور اپنا کام   کو مستقل مزاجی کے ساتھ کرتے رہیں۔۔ یاد رکھیں ایک بیج ایک دن میں کبھی بھی بھل دار اور سایا دار درخت نہیں بنتا۔ اس  بیج کو درخت بنے کے لئے زمانے کی دھوپ چھاوں اور  سرد و گرم موسم کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔  تبھی وہ ایک خوبصورت اور فائدہ مند درخت بنتا ہے 


آپ اپنے کام کو بیج جیسا تصور کریں اور اسے پھل دار بنانے کے لئے انتھک کوشیش کرتے جائیں۔دوستوں زندگی کسی کی بھی آسان نہیں ہوتی ۔۔ خود کو کمفرٹ زون سے نکال کر خود کو ایک  ٹارگٹ دیں ۔۔ اپنے کام سے عشق کریں 

   

انکار کرنا سیکھیں


دوستوں اگر آپ ہمیشہ لوگوں کے لئے دستیاب ریتے ہیں تو یاد رکھیں کہ آپ کبھی بھی اپنے کاموں کو وقت پے ختم نہیں کرسکتے ۔۔ نہ ہی کچھ نیا کر سکتے ہیں ۔۔ کیونکہ آپ کو لوگوں کے کاموں کو ختم کرنے کی  ذمیداری ہمیشہ بےچین رکھے گی ۔۔اور اگر آپ اپنی زمینداریوں سے چوکتے ہو تو لوگ آپ کو غیر زمیندار کہنے میں وقت نہیں  لگائیں گے ۔۔اس لئے اتنی ہی زمیداری اپنے کاندحوں میں لیں   جتنا آپ کر سکتے ہو۔۔ جتنا آپ فری رہو گے اپنے کاموں کو آسانی کے ساتھ پورا کرسکتے ہو ۔۔   ۔۔ ایسی مصروفیات سےخود کو بچائیں جو آپ کے  مقصد کے حصول میں دخل اندازی کریں۔۔ جیسے سوشل میڈیا کا استعمال ۔۔ٹی وی دیکھنا ۔۔ بلا وجہ کی بحث و مباحث میں حصہ لینا ۔۔ 

صبر کرنا سیکھیں  

ہر کام کو کرنے کا طریقہ ہوتا ہے اور کام کی تکمیل میں وقت بھی لگتا ہے ۔۔ یاد رکھیں جس طریقے  اور انتھک کوشیشوں سے آپ نے تحقیق کر کے علم  ملا ہے  اس کام کو  کرنے میں اس سے ذیادہ وقت  لگے گا۔۔ جادو کا چراغ کہیں بھی نہیں ۔۔ ہر کام کا ایک طریقہ کار اس پروسیس سے گزرنا ہی پڑتا ہے ۔ ایک درخت جو آج سایا دیتا دیکھائی دیتا ہے جس سے سب فائیدہ  حاصل کرتے ہیں سوچوں کبھی یہ بھی ایک بیج تھا ۔۔ 

اپنی کوشیش کو بھی ایک بیج کی طرح سمجھیں۔۔ اور اس بیج کی نگہداش کے لئے حسب ضرورت پانی دیتے رہیں ۔۔ علم ہی وہ طاقت ہے جو آپ کو ناکامی  سے بچاسکتی ہے ۔۔ درحقیقت رسک ہی ناکامی کا دوسرا نام ہے ۔۔

دیکھا گیا کہ ڈسپین کے عادی افراد ٹیلینٹیڈ  افراد سے آگے نکل جاتے ہیں ۔۔ ٹیلینٹیڈ افراد  خود پے ہمیشہ فخر کرتے ہیں اور سیلف کنفیڈینس میں مارے جاتے ہیں ۔۔ ۔ ایسے لوگ انتہائی سست ہوتے ہیں ۔۔ اپنی مرضی سے ہر کام کو کرنا چاھتے ہیں ۔ دیر میں کام کی شروعات کرتے ہیں اور۔ جلد بازی ہی ان کی ناکامی کا سبب بنتی ہے۔

 

اپنے دوستوں کا انتخاب  سوچ سمجھ کر کریں 

 

دوستوں کہتے ہیں کہ انسان جیسی صحبت میں رہتا ہے۔  وہ وقت گزرنے کے ساتھ ان جیسا ہی بن جاتا ہے اگر آپ کامیاب انسان بننا  چاھتے ہوتو اپنے دوستوں کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں ۔ ایسے لوگوں کے ساتھ  خود کو دور کر دیں جو اپنے وقت کی قدر نہیں کرتے ۔ جن کی ذندگی کا کوئی مقصد یا  ٹارگٹ نہ ہو۔ جو بزدل ہوں ۔۔ جس میں آگے بڑھنے چاھت ہی نہیں ۔ ۔۔ کیونکہ یہی لوگ  آپ کو آگے بڑھنے سے روکے گے۔ ایسے لوگوں سے خود کو دور رکھیں جو نیگٹیو سوچتے ہیں ۔  آپ جیسے لوگوں کے ساتھ وقت گزارتے ہو لاشعوری طور پر ویسے ہی بن جاتے ہو۔۔کیونکہ ماحول ہی انسان کی شخصی تعمیر کرتا  ہے۔

دوستوں ایک ڈائیری میں آپ پانچ دوستوں کے نام لکھیں  جن کے ساتھ آپ ذیادہ سے ذیادہ وقت گزارتے ہیں ۔۔ اور سوچیں کہ اگلے پانچ سالوں میں وہ کہاں ہونگے ۔۔ اگر ان کی سمت بے سمت ہوئی تو آپ بھی بھٹکتے رہوں گے ۔۔ کامیاب لوگوں کے ساتھ رہیں ۔۔ ان کی عادات سیکھیں ۔۔  ان سے کامیابی حاصل کرنے کے طریقے سیکھیں ۔۔ انسان دیکھ کر ہی سیکھتا ہے ۔۔دنیا سے ہی انسان سیکھتا ہے ۔۔ یاد رکھیں ایک دن میں انسان کچھ نہیں سیکھتا ۔۔  نہ ہی ایک دن میں انسان کامیابی حاصل کرسکتا ہے 

اگر آپ کے اطراف کامیاب اور اچھےلوگ دستیاب نہیں تو تنہا رہیں اور اچھی کتابوں کو اپنا دوست بنا لیں ۔گوگل اور یوٹیوب مین ہر طرح کی معلومات مل جاتی ہیں  سرچینگ کریں ۔کوئی ایک  اسکیل سیکھیں جو آپ کو کامیابی کی طرف پہلا قدم اٹھانے میں مدد دے گی ۔ یاد رکھیں یہ ذندگی آپ کوبے وقعت گزارنے کے لئے نہیں ملی۔ اپنی زندگی کو مقصد دیں ۔۔ جب آپ کود کامیاب ہوں گے تو دوسروں کی مدد کر سکیں گے اور ایک کامیاب زندگی گزار سکیں گے ۔۔ اور زندگی میں کچھ نیا سیکھو ۔۔ نیا سوچو اور نیا کرو۔۔ یاد رکھیں  کہ علم روشنی ہے  جو اپنے سات چلنے والوں کی رینمائی تو کرتی ہے ۔۔۔ لیکن اس روشنی کے پیچھے چلنے بھی اس روشنی سے مستفید ہوتے ہیں۔۔اور  وہ بھی گرنے سے بچتے ہیں ۔۔ خود کو اتنا کامیاب بنا لو کہ لوگ آپ کے نام کا  حوالہ دے کر اپنی بات میں وزن پیدا کریں اور آپ کا ساتھ ان کے لئے قابل فخر ہو۔ 


     تحریر :کرن مہک 

 
Read More

Monday, 28 February 2022

Ujray Hoye Log

February 28, 2022

 

 اجڑے ہوئے لوگ


ویرانوں میں ایک کشش ہوتی ہے ,مگر وہاں رہنا کوئی نہیں چاہتا. 

جیسے اجڑے ہوئے لوگوں کو جاننا ہر کوئی چاہتا ہے،

  مگر اپنانا کوئی نہیں چاہتا.یہی زندگی ایک تلخ  حقیقت ہے 

سچ تو یہی ہے کہ ان اجڑے ہوئے لوگوں کے پاس 

ایک کہانی ہوتی ہے ۔جس پے افسانے لکھے جاتے ہیں

   ڈرامے اور فلمیں بنائے جاتے ہیں مگر انہیں اپنایا نہیں جاتا  ۔ 

*

English Translate

 Abandoned people

Deserts have an attraction 

 But no one wants to live there

 Like the desolate people 

  Everyone wants to know,

  But no one wants to adopt.  

This life is a bitter reality

  This is the truth  

To these desolate people  

There is a story.

  On which legends are written

  Dramas and films are made.

 

Roman  language

 

 Ujray Hoye Log

Wranon main aik kashish hoti hai 
magar wahan koi rehna nahi chahta .
jese ujre hoye logon ko 
janna har koi chahta hai ..
magar apnata koi nahi ..
sach to yahi hai k 
an ajrey hoye logon key pas
aik kahani hoti hai 
jis pey afsane lkhe jate hain
dramen aur filmen bnai jati hain
 
 
Read More

Sunday, 27 February 2022

GULABI NAMAK

February 27, 2022

 

 

 Pink Salt
گلابی نمک 
 
زمانے بدلتے ہیں ، فیشن بدلتے ہیں اور لوگ بھی بدل جاتے ہیں لیکن زمانے اور فیشن کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی چیزیں بھی بدل جاتی ہیں ، یہ کچھ اس صدی کا ہی کمال ہے
کبھی جب لوگ آرگینک چیزیں کھاتے اپنے گھروں میں اگاتے تھے بسا اوقات اس کی وجہ غربت بھی ہوتی تھی کہ موسمی سبزیاں گھر سے مل جاتی ہیں کچھ بچت ہو جاتی ہے یا پھر گاوں دیہات میں ہی آرگینک میسر تھا جنہیں ہم شہری آرام سے گنوار ، دیہاتی وغیرہ کہہ دیتے ۔۔
 
پھر ان کی "ہا" لگی اور سب آرگینک کی طرف بھاگے گھروں میں کچن گارڈن کا فیشن آ گیا ۔۔
بچے گوشت نہیں کھاتے صرف چکن کھاتے ہیں بے چاری برائلر جس نے ناصرف امیروں بلکہ غریبوں کو بھی "سرو" کیا اب یہ بھی دیسی کھائی جانے لگی ہے دیسی مرغ عام گھروں میں کم ہی پکا کرتا تھا اور اب دیسی مرغ فیشن میں آگیا ہے۔
 
( یہ بات قابلِ غور ہے برائلر "مرغی" کھائی جاتی ہے اور دیسی "مرغ" اس پر پھر کبھی بات ہو گی 🙂سمجھدار لوگ تو سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ کیوں ؟ ) خیر جناب اب تو اس "مرغ" نے بھی اپنے بھاو بڑھا لیے ہیں ۔۔
اسی طرح سرسوں کے تیل کا حال ہے کبھی لوگ مارے غربت کے اسے استعمال کرتے تھے پھر صاحبِ حیثیت لوگوں کو یو ٹیوب نے بتایا کہ سرسوں کا تیل ہی تو بہترین ہے لیجیے اس کے بھاو بھی فشارِ خون کی طرح بلند ہو گئے ۔۔
 
سو اب کے فیشن، چرچا اور مہنگائی کی ہما پنک سالٹ پہ بیٹھ گئی ہے حالانکہ اس نمک کی خاصیت ازل سے بھڑکانے والی ہے بقول زبیر قیصر ۔۔
 
جتنا چھڑکا ہے تُو نے زخموں پر
اتنا کھایا نہیں نمک تیرا
 
پہلے لوگ نمک کا ڈھیلا گھر لے کر آتے تھے جسے لاہوری نمک کہا جاتا اسے کونڈی میں ڈال کر ڈنڈے کی مدد سے کوٹ لیتے باریک الگ کر لیتے موٹا موٹا الگ پھر حسبِ ضرورت حسبِ خواہش استعمال کرتے رہتے ۔۔
پھر سمندری نمک کا فیشن آیا ۔۔ 
 
پھر آیوڈین ملے نمک کا جس کے بارے میں کئی افواہیں سنیں کہ شاید اسے زخموں پر چھڑکنے سے خاطر خواہ نتائج برامد نہیں ہوتے بلکہ کچھ اور ہو جاتا ہے خیر جتنے منہ اتنی باتیں لیکن یہ جو پنک سالٹ ہے اس نے اپنی گلابی خوبصوت رنگت کی وجہ سے بڑی جلدی دلوں میں گھر کر گیا دو کمرشل تو میں اس کی شان میں لکھ چکی ہوں ۔۔ 
 
یہ جو تصویر میں ٹرک پہ لدے گوشتئی رنگ کے پتھر آپ دیکھ رہے ہیں دراصل یہ نمک ہے جو کسی نہ کسی بہانے ہماری رگوں اور ہمارے بلڈ پریشر کے ساتھ وہ ہی سلوک کرے گا جو سادہ نمک بھی کیا کرتا تھا اس سے بھی ڈاکٹر احتیاط ہی بتائیں گے ۔۔ لیکن گلابی رنگ کی خوبصورتی سے انکار نہیں وہ چاہے چہرے کا ہو چاہے نمک کا ۔۔ 
 
دلشاد نسیم ۔۔

 

Read More

Wasela

February 27, 2022

 

 

میری یہ بچپن سے عادت رہی ہے کہ جب محلے کی دکان سے کچھ بھی لیا،
انہوں نے اخباری ٹکڑے میں لپیٹ کر دیا تو شے کے استعمال کے بعد اس ٹکڑے کو ضرور دیکھا اور پڑھا۔
یہ 2007 کی بات ہے میں اسلام آباد میں اس وقت سی ایس ایس کی تیاری کر رہا تھا۔ مارکیٹ میں تازہ جلیبی بن رہی تھی وہ خریدی تو اخبار کا ساتھ آنے والا ٹکڑا پوری زندگی تبدیل کر گیا۔
 
Help

 
ہوا کچھ یوں کہ اُس ٹکڑے پر ایک کالم چھپا ہوا تھا۔ کالم نگار کا نام اب یاد نہیں ہے لیکن اس نے جو لکھا تھا وہ سب یاد ہے حرف بہ حرف تو نہیں، لیکن یاد ہے۔ آپ بھی پڑھیں۔
 
اُس نے لکھا کہ:
میں کل اپنے ایک کاروباری دوست کے پاس دفتر گیا چائے پی گپ شپ لگاتے ہوئے گھر جانے کا وقت ہو گیا۔ جب دفتر سے باہر نکل رہے تھے تو کلرک نے آ کر ایک شکایت لگائی کی جناب فلاں چپڑاسی سست ہے کام نہیں کرتا، ڈرائیور نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائی۔
میرے اُس دوست نے کہا اگر کام نہیں کرتا تو کس لیے رکھا ہو ہے، فارغ کرو اسے۔ میں نے فورا مداخلت کی اور کہا، کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ ایک دفعہ اس سے بات کر لو، کیا پتہ اسکے کچھ مسائل ہوں۔ پھر میں نے اپنے دوست کو ایک آنکھوں دیکھا واقعہ سنایا۔
 
،،شیخ صاحب لاہور میں ایک معمولی سے دفتر میں ملازم تھے، دن کچھ ایسے پھرے کہ اسی دفتر کے صاحب کو پسند آ گئے اور یوں انکی فیملی میں ہی شیخ صاحب کی شادی ہو گئی۔
قدرت شیخ صاحب پر مہربان تھی، دن رات اور رات دن میں بدلتے گئے اور شیخ صاحب ایک دکان سے ایک مارکیٹ اور پھر ایک فیکٹری سے دو، چار، اور پھر نہ جانے کتنی فیکٹریوں کے مالک بنتے گئے۔
 
دھن برستا گیا، دو بچے ہو گئے۔ شیخ صاحب نے کرائے والی کمرے سے ایک اپارٹمنٹ اور پھر لاہور کے انتہائی پوش علاقے میں دو کنال کی ایک کوٹھی خرید لی۔ مالی کی ضرورت پیش آئی تو چکوال سے آئے ہوئے سلطان کو فیکٹری سے نکال کر اپنی کوٹھی میں پندرہ سو روپے ماہوار پر اپنی کوٹھی پر ملازم رکھ لیا۔
 
سلطان ایک انتہائی شریف اور اپنے کام سے کام رکھنے والا انسان تھا، نہ کسی سے کوئی جھگڑا، نہ کوئی عداوت، نہ کبھی کوئی شکائت۔ ایک بار شیخ صاحب دن کے دس بجے کسی کام سے گھر واپس آئے تو گاڑئ دروازے پر ہی کھڑی کر دی کہ ابھی واپس دفتر جانا تھا۔ دروازے سے گھر کے داخلئ دروازے کے درمیان اللہ جانے کیا ہوا کہ پودوں کو پانی دیتے سلطان کے ہاتھ سے پایپ پھسلا اور شیخ صاحب کے کپڑوں پر پوری ایک تیز پھوار جا پڑی،شیخ صاحب بھیگ گئے۔ سلطان پاؤں میں گر گیا، گڑگڑا کر معافی مانگنے لگا کہ صاحب غلطی ہو گئی۔ لیکن شیخ صاحب کا دماغ آسمان پر تھا۔ غصے میں نہ آو دیکھا نہ تاو، وہیں کھڑے کھڑے سلطان کو نوکری سے ننکال دیا۔کہا شام سے پہلے اس گھر سے نکل جاوؐ۔
 
سلطان بیچارہ سامان کی پوٹلی باندھ کر گھر سے نکل کر دروازے کے پاس ہی بیٹھ گیا کہ شاید صاحب کا غصہ شام تک ٹھنڈا ہو جائے تو واپس بلا لیں۔ شام کو سیخ صاحب واپس آئے، دیکھا سلطان ابھی تک بیٹھا ہوا تھا، گارڈ کو کہا اسے دھکے دیکر نکال دو، یہ یہاں نظر نہ آئے، صبح ہوئی تو سلطان جا چکا تھا۔ رب جانے کہاں گیا تھا۔
وقت کزرتا گیا، شیخ صاحب کے تیزی سے ترقی پاتے کاروبار اور فیکٹریوں میں ایک ٹھہراوؐ سا آنے لگا۔ کاروبار میں ترقی کی رفتار آہستہ آہستہ کم پڑتی گئی۔ لیکن شیخ صاحب زندگی سے بہت مطمئن تھے۔
 
پھر ایک فیکٹری میں آگ لگ گئی، پوری فیکٹری جل کر راکھ ہو گئی۔ کچھ مزدور بھی جل گئے۔ شیخ صاحب کو بئٹھے بٹھائے کروڑوں کا جھٹکا لگ گیا۔ کاروبار میں نقصان ہونا شروع ہوا تو شیخ صاحب کے ماتھے پر بل پڑنا شروع ہو گئے۔ بڑا بیٹا یونیورسٹی کا سٹوڈنٹ تھا،دوستوں کے ساتھ سیر پر مری گیا واپسی پر حادثہ ہوا تو وہ جوان جہان دنیا سے رخصت ہو گیا۔ شیخ صاحب کی کمر ٹوٹ گئی۔
 
نقصان پر نقصان ہوتے گئے۔ دو کنال کی کوٹھی بیچ کر دس مرلے کے عوامی طرز کے محلے میں آ گئے۔ جب عقل سے کچھ پلے نہ پڑا تو پیروں فقیروںںں کے ہاں چلے گئے کہ شاید کوئی دعا ہاتھ لگ جائے اور بگڑی ہوئی زندگی پھر سے سنور جائے۔ باقی ماندہ کاروبار بیچ کر اور کچھ دیگر پراپرٹی کو رہن رکھ کر بنک سے قرضہ لیا اور چھوٹے بیٹے کو ایک نیا کاروبار کر کے دیا۔
 
اسکے پارٹنر دوست نے دغا کیا اور اکثر پیسہ ڈوب گیا۔ شیخ صاحب ساٹھ سال کی عمر میں چارپائی سے لگ گئے۔
ایک دن ایک پرانا جاننے والا ملنے آئا، حالات دیکھے تو بہت افسوس کیا۔ کہا شیخ صاحب انڈیا سے ایک بزرگ آئے ہوئے ہیں، بہت بڑے اللہ والے ہیں، داتا صاحب کے پاس ہی ایک مکان میں انکا چند دن کا قیام ہے، اگر ان کے پاس سے دعا کروا لیں تو اللہ کرم کرے گا۔
 
شیخ صاحب فورا تیار ہو گئے۔ اس مکان پر پہنچے، ملاقات کی، مسئلہ بیان کیا۔ انہوں نے آنکھیں بند کیں، کچھ دیر مراقبے کی کیفیت میں رہے، پھر آنکھیں کھولیں، شیخ کو دیکھا اور کہا "تم نے سلطان کو کیوں نکالا تھا؟"
چیخ کے سر کے اوپر گویا ایک قیامت ٹوٹ پڑی، آنکھوں سے آنسووؐں کی ایک نہ تھمنے والی لڑی جاری ہو گئی، شیخ بزرگ کے پاوؐں میں گر گیا، معافیاں مانگنے لگا۔ بزرگ نے اسے کہا میری بات سنو۔ پروردگار رازق ہے، وق رزق ضرور دے گا لیکن اسکا وسیلہ انسانوں کو ہی بنائے گا۔اوپر سے نیچے آتے پانی کی تقسیم جس طرح نہروں نالوں کی طرح ہوتی ہے رزق کی تقسیم اسی طرح ہے۔
 
پروردگار کے نزدیک ہم میں سے ہر ایک شخص وسیلہ ہے کسی اور کے رزق کا۔ اگر آپ وسیلہ بننے سے انکار کرو گے تو تمہارے حصے کا وہ رزق جو اس وسیلے سے تمہیں بطور معاوضہ مل رہا تھا ختم ہو جائے گا۔
تمہیں لاکھوں کروڑوں سلطان کو پندرہ سو روپے دینے کے لیے ملتے تھے۔ تم نے وہ روک لیے، اوپر والے نے نمہارا معاوضہ ختم کر دیا۔ اب جاوؐ اور سلطان کو ڈھونڈو، اگر وہ مان جائے معاف کر دے تو تمہارے دن پھر جائیں گے۔
 
شیخ کی دنیا لٹ گئی، وہ سر پیٹتا گھر آیا پرانے کاغذات ڈھونڈتا رہا کہ شاید کہیں سلطان کا کوئی پتہ، کوئی شناختی کارڈ، کوئی اور معلومات مل سکیں۔ کچھ بھی نہ ملا تو شیخ دیوانہ وار سلطان کو ڈھونڈنے چکوال جانے والی بس میں بیٹھ کر چکوال چلا گیا۔ مگر سلطان نہ ملا۔
 
چھوٹا بیٹا ڈھونڈتا ڈھونڈتا چکوال اڈے پر آ پہنچا اور باپ کو واپس لاہور لے آئا۔ لیکن شیخ کا دل کا سکون ختم ہو گیا تھا۔ کچھ دن بعد شیخ پھر گھر سے غائب ہوا تو بیٹے کو معلوم تھا کہ کہاں ملے گا۔وہ چکوال پہنچا تو دیکھا باپ زمین پر بیٹھا سر میں راکھ ڈال رہا تھا اور کہہ رہا تھا سلطان تم کہاں ہو، سلطان تم کہاں ہو۔ بیٹا خود روتا ہوا باپ کو واپس لے آئا۔ چند دن کے بعد شیخ کا انتقال ہو گیا۔
 
کالم نگار نے لکھا، میں نے اپنے دوست کو یہ پوری کہانی سنائی اور اسے کہا، چپڑاسی کو نہ نکالو، اسکا رزق تمہارے رزق سے جُڑا ہے، اسے تو رب کہیں اور سے بھی دے دے گا کہ اس کے پاس وسیلہ بنانے کے لیے کسی چیز کی کوئی کمی نہیں لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اس معاوضے والی نعمت سے محروم ہو جاوؐ۔
 
مجھے یہ واقعہ پڑھے ہوئے تیرہ سال گزر گئے ہیں۔ آپ یقین کریں اس نے میری زندگی بدل دی۔ میں مالی معاملات میں بہت زیادہ محتاط ہو گیا۔ اگر کسی کے پاس دس بارہ رہ گئے تو نہیں مانگے کہ کہیں اوپر والے سے ملنے والا معاوضہ کم نہ ہو جائے۔میں نے ڈھونڈ ڈھونڈ کر اور نیک نیتی سے وسیلہ بننے کی کوششیں بھی کیں
،میں جو بھی مستحق ہیں انکا خیال رکنے کی کوشش کی۔ میں ان تیرہ سالوں میں کبھی تنگ دست نہیں ہوا۔ ایک سے بڑھ کر ایک وسیلہ ملتا گیا اور میں آگے بڑھتا رہا۔
 
سبحان اللّٰہ

 

Read More

Sunday, 20 February 2022

Mohabat Bey Bas kar deti hai

February 20, 2022

۔

 

محبت انسان کوبے بس کر دیتی ہے ۔ جیسے کسی کے ہاتھ پاؤں باندھ کر بیٹھا دو ______ بالکل ویسے ہی دل کے ساتھ ہوتا ہے ۔ باندھ دیا جاتا ہے کہ لو اب ساری زندگی بندھے رہو، تکلیف کاٹتے رہو ، جھیلتے رہو عذاب۔
 
محبت صرف محسوس کرنے کی چیز نہیں ہے۔ یہ تو جینے کا ایک طریقہ ہے۔ بالکل اس طرح سے کہ ایک چیز سے آپ کو تکلیف ہو اور وہ چیز آپ کے ساتھ باندھ دی جائے اور آپ اس سے پیچھا بھی نہ چھڑوا سکیں۔ اس کے ساتھ سونا، اسی کے ساتھ جاگنا ، کھانا پینا ۔ تو کیسا لگے گا ؟
 
لوگ جھوٹ بولتے ہیں کہ اب وہ بدل گئے ہیں۔ محبت باقی نہیں رہی لیکن میں بتاؤں ؟؟؟؟؟ کہ محبت آگ جیسی ہوتی ہے جس کے دامن میں لگ جائے اسے خاک کئے بنا نہیں چھوڑتی اور جو خاک ہو جائے اسے دوبارہ کون بنائے۔
 
 
کسی دن تمہارے پاس ڈھیر سارا وقت ہو
اور میں اپنی حسرتوں بُنی شال کا 
دھاگہ دھاگہ اُدھیڑ کر تمہیں دکھاوْں
کیا ایسا ہو سکتا ہے.....؟
 
کسی سمندر کنارے کسی سیمنٹ کے بینچ پر
 میری پشت "کائنات" کی پشت سے لگی ہو
اور سمندر ہماری باتیں سن کر 
محبت زندہ باد کا شور مچا دے
کیا ایسا ہو سکتا ہے.....؟
 
کسی روز اپنی یادوں کے ہمراہ تم خود بھی آوْ
اور میرے کاندھے پہ سر رکھ کر کہو
"اتنا یاد کیوں کرتے ہو؟
 بے دھیانی کا دھیان بھی اپنی سمت کھینچ لیتے ہو"
کیا ایسا ہو سکتا ہے.....؟
 
کسی جھیل کنارے کی شام ہو
اور جھیل کنارے اُڑتے جگنووْں کی 
روشنی کے سائے میں
میں تمہارے سامنے تمہاری مجبوریوں کو
 نظم کروں
مجھے معلوم ہےایسا ہو سکتا ہے
گر تم چاہو
ایسا ہو سکتا ہے...
 
سب سے بھاری جنازہ مردہ محبت کا ہوتا ہے جسے نہ زمین قبول کرتی ہے نہ آسمان قبول کرتا ہے ،نہ ہی سمندر ۔ روح جسم کے خالی پنجروں میں پھڑپھڑاتی رہتی ہے ۔ بلآخرامیدیں کفن اوڑھ کر دم توڑ دیتی ہیں
Read More

Sarson Key Teel Aur Iss Key Fawed

February 20, 2022

 

 

 

سرسوں کا تیل اور اس کے فوائد جانئیے۔
 
مغلیہ دور کے فٹنس اور جوانی کے راز اور قارئین کی پسندیدگی اور اپنے مشاہدات کا اظہار 
 
ایک خاتون نے لکھا کہ میرے نانا 87 سال کے فوت ہوئے، نہ کمر جھکی، نہ جوڑوں میں درد، نہ سر درد، نہ دانت ختم ، ایک بار باتوں باتوں میں بتانے لگے کہ مجھے ایک سیانے نے مشورہ دیا تھا اس وقت جب میں کلکتہ میں ریلوے لائن پر پتھر ڈالنے کی نوکری کر رہا تھا کہ سوتے وقت اپنے پاؤں کے تلوؤں پر تیل لگا لیا کریں بس یہی عمل میری شفاء اور فٹنس کا ذریعہ ہے
 
ایک سٹوڈنٹ نے بتایا کہ میری والدہ اسی طرح تیل لگانے کی تاکید کرتی ہیں پھر خود بتایا کہ بچپن میں میری یعنی والدہ کی نظر کمزور ہو گئی تھی جب یہ عمل مسلسل کیا تو میری نظر آہستہ آہستہ بالکل مکمل اور صحت مند ہو گئی۔
 
ایک صاحب جو کہ تاجر ہیں نے لکھا میں چترال میں سیرو تفریح کرنے گیا ہوا تھا وہاں ایک ہوٹل میں سویا مجھے نیند نہیں آ رہی تھی میں نے باہر گھومنا شروع کر دیا باہر بیٹھا رات کا وقت بوڑھا چوکیدار مجھے کہنے لگاکیا بات ہے ؟ میں نے کہا نیند نہیں آ رہی ! مسکرا کر کہنے لگا آپ کےپاس کوئی تیل ہے میں نے کہا نہیں وہ گیا اور تیل لایا اور کہا اپنے پاؤں کے تلوؤں پر چند منٹ مالش کریں بس پھر کیا تھا میں خراٹے لینے لگا اب میں نے معمول بنا لیا ہے۔
 
میں نے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا یہ ٹوٹکہ آزمایا اس سے نیند بہت اچھی آتی ہے اور تھکاوٹ ختم ہو جاتی ہے۔
مجھے معدے کا مسئلہ تھا پاؤں کو تلوؤں پر تیل کی مالش سے 2 دن میں ہی میرا معدے کا مسئلہ ٹھیک ہو گیا۔
 
واقعی! اس عمل میں جادو جیسا اثر ہے میں نے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کی اس عمل کی وجہ سے مجھے بہت پر سکون نیند آئی۔
میں یہ ٹوٹکہ تقریباً پچھلے 15 سال سے کر رہی ہوں مجھے اس سے بہت پر سکون نیند آتی ہے میں اپنے چھوٹے بچوں کے پاؤں کے تلوؤں پر بھی تیل سے مالش کرتی ہوں اس سے وہ بہت خوش ہوتے ہیں اور صحت مند رہتے ہیں ۔
 
میرے پاؤں میں درد رہتا تھا میں نے روزانہ زیتون کے تیل سے رات کو سونے سے پہلے 2 منٹ پاؤں کے تلوؤں کی مالش کرنا شروع کر دی اس عمل سے میرے پاؤں کا درد ختم ہو گیا ۔
 
میرے پاؤں میں ہمیشہ سوزش رہتی تھی جب چلتی تھی تو تھکن سے چور ہو جاتی تھے میں نے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا یہ عمل شروع کیا صرف 2 دنوں میں میرے پاؤں کی سوزش دور ہو گئی ۔
 
رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا ٹوٹکہ دیکھ کر اسے کرنا شروع کر دیا اس سے مجھے بہت سکون کی نیند آتی ہے۔زبردست کمال کی چیز ہے۔ پر سکون نیند کیلئے نیند کی گولیوں سے بہتر کام کرتا ہے یہ ٹوٹکہ میں اب روزانہ رات کو پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کر کے سوتی ہوں۔
 
میرے دادا حضور کے تلوؤں میں بہت گرما ہٹ و جلن اور سر میں درد رہتا تھا جب سے انہوں نے لوکی کا تیل تلوؤں میں لگانا شروع کیا تکلیف سرے سے دور ہو گئی ۔
میں تھائیرائیڈ کی مریضہ تھی میرے ٹانگوں میں ہر وقت درد رہتا تھا پچھلے سال مجھے کسی نے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا یہ ٹوٹکہ بتایا میں مستقل کر رہی ہوں اب میں عموماً پر سکون رہتی ہوں ۔
 
میرے پاؤں سن ہو رہے تھے میں چار دن سے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل سے مالش کر رہا ہوں بہت زیادہ فرق ہے ۔ بارہ تیرہ سال پہلے مجھے بواسیر تھی ، میرا دوست مجھے ایک حکیم صاحب کے پاس لے گیا جن کی عمر 90 سال تھی انہوں نے مجھے دوا کے ساتھ ساتھ رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر انگلیوں کے درمیان ، ناخنوں پر اور اسی طرح ہاتھوں کی ہتھیلیوں ، انگلیوں ، کے درمیان اور ناخنوں پر تیل کی مالش کرنے کا مشورہ دیا اور کہا ناف میں چار پانچ قطرے تیل کے ڈال کر سونا ہے میں نے حکیم صاحب کے اس مشورے پر عمل کرنا شروع کر دیا اس سے میرے خونی بواسیر میں کافی حد تک آرام آ گیا اس ٹوٹکے سے میرا قبض کا مسئلہ بھی حل ہو گیا میرے جسم کی تھکاوٹ بھی دور ہو جاتی ہے اور پر سکون نیند آتی ہے اور بقول حضرت حکیم صاحب دامت برکات ہم کے ناک کے اندر سرسوں کا تیل لگا کر سونے سے خراٹے آنے بند ہو جاتے ہیں ۔
 
پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کایہ ٹوٹکہ میرا آزمودہ ہے۔
پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کرنے سے مجھے بہت پرسکون نیند آئی۔
میرے پاؤں اور گھٹنوں میں درد رہتا تھا ۔ جب سے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا ٹوٹکہ پڑھا اب میں یہ روزانہ کرتا ہوں اس سے مجھے پر سکون نیند آتی ہے ۔
 
مجھے کمر میں بہت درد تھا جب سے میں نے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا یہ ٹوٹکہ استعمال کرنا شروع کیا ہے کمر کا درد کم ہوگیا ہے اور اللہ پاک کا شکر ہے بہت اچھی نیند آتی ہے ۔
 
وہ مغلیہ راز درج ذیل ہے:۔
وہ راز بالکل آسان نہایت مختصر ، ہر جگہ اور ہر شخص کے لئے کرنا بہت آسان ۔کوئی سا بھی تیل سرسوں یا زیتون وغیرہ پاؤں کے تلوؤں اور پورے پاؤں پر لگائیں خاص طور پر تلوؤں پر تین منٹ تک دائیں پاؤں کے تلوے اور تین منٹ بائیں پاؤں کے تلوے پر رات کو سوتے وقت مالش کرنا کبھی نہ بھولیں ، اور بچوں کی بھی اسی طرح مالش ضرور کریں ساری زندگی کا معمول بنا لیں پھر قدرت کا کمال دیکھیں آپ ساری زندگی سر میں کنگھی کرتے ہیں جوتے صاف کرتے ہیں ، تو سوتے وقت پاؤں کے تلوؤں پر تیل کیوں نہیں لگاتے
۔
Read More

Saturday, 19 February 2022

Aaseeb

February 19, 2022

 

 آسیب
 
سب سے پہلے تو سلام عرض ہے بعد از سلام لکھنا تو بہت کچھ ہے لیکن ایک لکھاری ہو کر بھی مجھے اب لمبا لکھتے موت آتی ہے خاص طور پر شادی کے بعد پڑھنے پڑھانے لکھنے لکھانے کا دل ہی نہیں کرتا۔
 
Bhoot

 
 خیر بات چل رہی ہے آج کل بھوتوں پریتوں جنوں چڑیلوں کی اللہ معاف کرے ان سب کے شر سے اللہ سب کو محفوظ رکھے ہیں تو ہم اشرف المخلوقات لیکن جانے مجھ جیسے لوگ اپنا ڈر کیسے ختم کرتے ہو گے
 
ارے نہیں نہیں شروع سے ایسی نہیں ہو میکے میں بھی اگر بہت زیادہ بہادر نہیں بھی تھی تب بھی اتنی بزدل تو ہرگز نا تھی جیسی پچھلے سال رمضان کے بعد سے اب تک ہو گئی ہو
 
شادی ہوئی میری اور دیوارنی کی ایک ساتھ ایک ہی پورشن مطلب اوپر والا ہمیں ملا اور آمنے سامنے کمرے امید سے پہلے میں ہوئی پھر بعد میں وہ اور اُسکی طبعیت بہت خراب رہنے لگی تو وہ میکے چلی گئی 
 
کچھ عرصہ اور میں اوپر اکیلی ہوتی میاں جی کے جانے کے بعد ۔ میاں جی پولیس آفیسر ہیں ٹائمنگز بدلتی کبھی صبح چار بجے جاتے کبھی دن 12 تو کبھی رات آتے ہی نہیں بس یہ واقعہ ہے پچھلے رمضان المبارک کا اور میاں جی سحری کے فورا بعد دفتر چلے جاتے تھے اور میری پیاری بہت بیٹی دنیا میں آچکی تھی..
 
 مزے کی بعد کے بیٹی کے آنے سے پہلے اور دیوارنی کے میکے جانے کے بعد میں سارا سارا دن اور شام میں اوپر اکیلی رہتی تھی کبھی ایک ذرہ بھی ڈر خوف محسوس نہیں ہوا آج سوچتی ہوں تو خود پر حیرت ہوتی ہے کہ کیا وہ تم ہی تھی وجیہہ؟؟؟ 
 
بیٹی کے آنے کے بعد بھی کتنا عرصہ بیٹی کے ساتھ مزے سے رہتی رہی اوپر ۔ میرا روم کافی بڑا ہے ایک طرف سامان ہے میرا اور ایک طرف بیڈ سیٹ ہے۔ اُس دن سحری کے بعد میاں جی چلے گئیے اور میں معمول کے مطابق تین ماہ کی دانین جان کو لے کر اپنے ساتھ لگا کر مچھر دانی میں نماز قرآن پڑھ کر سونے کی کوشش کرنے لگی ساتھ والے روم میں دیور سو رہا تھا اور میرا روم بند تھا اندر سے ۔ 
 
میں مزے سے نیند کی وادیوں میں کھونے ہی والی تھی کہ میرے اوپر ایک دم منوں بوجھ آن پڑا اور یقین کریں آج بھی سوچوں تو روح تک کانپ جاتی ہے کہ اُسی بوجھ کے زیرِ اثر میں نے زرا آنکھیں کھول کر اپنے اوپر دیکھنا چاہا تو بیڈ کے ساتھ پڑے صوفے کے بالکل سامنے پردوں کے پاس مجھے کوئی بہت اونچا سا کالے لباس والا ہیولا سا نظر آیا اور میں بس کہوں کہ آج اسی وقت میں مری کہ مری اور نا صرف نظر آیا
 
 بلکہ وہ آہستہ آہستہ چلتے چلتے میری مچھر دانی کے قریب مجھے میری چھوٹی تائی کی آواز میں آوازیں دیتا چلتا آیا کہ پیچھے تو مڑو اور مجھے بس یہ فکر کہ میری دانین کو کچھ نا ہو اونچی اونچی آیت الکرسی پڑھتی رہی زور سے آنکھیں میچ کے کہ اچانک بھک کر کے وہ جیسے ہوا میں تحلیل ہو کر میرے سامان کے پاس کہیں غائب ہو گیا ایک عجیب آواز کے ساتھ.
 
. ابھی بھی لکھتے لکھتے دل کانپ رہا ہے حالانکہ الحمداللہ اب کافی حد تک قابو پاچکی ہوں اپنے آپ پر ورنہ کئی ماہ میں اپنے کمرے میں اکیلے جھانک کر بھی نہیں دیکھا بس جب میاں جی ہوتے تو میں کمرے میں جاتی اور دانین کو بھی لے کر جاتی۔
 
 پھر ایک دن اپنی جیٹھانی کے روم میں بھی ڈری بہت شدید اور میاں تب رات 12 بجے گھر آتے تھے اُن دنوں اس ڈر کی وجہ سے مجھے ڈپریشن ہونے لگ گیا تھا میرا دل کرتا تھا اس گھر سے بھاگ جاؤں اور جب سرتاج گھر ہوتے بس تب ہی میرا گھر میں دل لگتا ورنہ یہ گھر مجھے وحشت ناک لگنے لگا تھا
 
خیر اُس وقت ڈری جب میں تو جھٹکے سے اٹھی اور اپنی آپی کو آنلائن دیکھ کر کال ملائی تو آپی نے تسلی دی کہ کچھ نہیں ہوتا پھر میاں جی کو ملائی حالانکہ انہیں دفتر میں فون لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی میں نے 15 پر ہی کال ملائی کیونکہ وہ وہاں ہی ہوتے تھے اُن دنوں اُن کا ڈیپارٹمنٹ ہی یہی تھا
 
 پھر میاں جی باہر آئے فون لیا اور مجھے ویڈیو کال کی اور بہت تسلیاں دینے لگے اور کہا کہ میں ویڈیو کال پر ہی ہوں آپ ایسا کریں سامان لیں دانین کا اور نیچے جائیں اللہ سلامت رکھے میرے ساس سسر کو جو کہ اتنے بڑے گھر کی اب وہی رونق ہیں کیونکہ باقی سارے بھائی ماشاءاللہ اپنے اپنے گھروں میں جا چکے ہیں
 
 میں میاں جی اور دیور دیوانی کے علاوہ ساس سسر ہی ہیں اب اس اتنے بڑے گھر میں تو جب میں ڈری تھی مجھے گھر کے ہر کونے سے خوف آتا تھا بہرحال اللہ میرے میاں جی کو خوش رکھے جنہوں نے اُس عجیب و غریب سچویشن میں سے نکلنے میں میرا بہت ساتھ دیا۔
 
خیر پھر میں نیچے گئی تو میری ماموں یعنی سسر سو رہے تھے اور ساس بڑی نند کے گھر گئی ہوئیں تھیں میں نے فوراً چھوٹے بھائی کو کال کی مجھے ابو سے ملنا ہے مجھے لے جاؤ آکر وہ آگیا اور میں میکے گئی ابو کو ساری بات بتائی اللہ میرے ابو کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل کرے وہ عالم دین تھے اور چار سال. کینسر جیسی مہلک بیماری سے لڑتے لڑتے دو ماہ پہلے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے، انہوں نے اگلے ہی دن بیماری کی حالت میں ہی مشکل سے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر میرے روم میں آیے میرے کمرے کو حصار دیا
 
 میری دیوارنی کے کمرے کو بھی جو ابو کی چہیتی ترین شاگردہ رہ چکی تھی اور مجھے ڈھیر تسلی دی کہ تمہیں کبھی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی تم تو ویسے بھی حافظہ ہو ڈرنا بالکل نہیں لیکن سچ کہوں وہ واقعہ میرے ذہن پر ایسے گہرے اثرات چھوڑ گیا تھا کہ میں اب میاں جی کی غیر موجودگی میں کمرے میں نہیں جاتی اب تو پھر بھی رہ لیتی ہوں کافی قابو پا لیا ہے 
 
اللہ مامی ماموں کو سلامت رکھے میں اور میری دانین ہم دونوں ہوتے ہی نیچے ہیں نیچے والے پورشن سے بھی ڈری تھی جیٹھانی کے کمرے میں سوتے میں کسی نے آکر کہا تھا تم یہاں کیا کر رہی ہو یہ تمہاری جگہ نہیں اور مجھے بس اُس کے الجھے عجیب سے بال یاد ہیں مگر اب وہاں ڈر نہیں لگتا خود کو سمجھاتی رہتی ہوں کہ ابھی تو سب کے ساتھ ہو کل کو اکیلے گھر میں رہنا پڑ گیا پھر کیا کروگی؟؟
 
لیکن یقین کریں ان دونوں واقعات کے بعد سے میں نے خود کو کیسے سمجھایا یا نارمل کیا یہ یا تو اللہ جانتا ہے یا بس دانین کے باباکو پتہ ہے اور اب بس مجھے شام میں اپنے کمرے سے ڈر لگتا ہے باقی سارے گھر میں آرام سے رہ لیتی تھی اور رہتی اب بھی میاں جی کی غیر موجودگی میں زیادہ تر مامی کے ساتھ ہوں
 
دیوانی میری شیرنی ہے وہ بھی بہت کچھ محسوس کر چکی مگر وہ ڈرتی نہیں اور اوپر والے پورشن میں اکیلی بھی رہ جاتی ہے میں اُسے کہتی ہوں یار آدھی بہادری مجھے دے دو تو وہ ہنستی ہے اور کہتی ہے یار انسان اشرف المخلوقات ہے اُس پر کوئی حاوی نہیں ہو سکتا خود کو بہادر بنائیں کل کو اپنے گھر بھی جانا ہے
 
خیر دعا کریں میں مکمل بہادر بن جاؤں اور ایسی صورت حال سے پھر کبھی نا گزروں وہ واقعہ شدید ترین اثرات چھوڑ گیا ہے میری زندگی پر میں کبھی اتنی بزدل نہیں تھی جتنی اب ہوں ہاں حافظہ ہونے کے باوجود اور ایک بیٹی کی ماں ہونے کے باوجود 
 
سیدہ وجیہہ بخاری
Read More

Friday, 18 February 2022

Bad Zaat

February 18, 2022

 

بدذات

راحیل میری دوسری بیوی کے پہلے شوہر سے تھا۔۔۔! جڑواں بیٹوں کی پیدائش کے وقت کچھ ایسی پیچیدگی پیدا ہوگئی کہ میری پہلی بیوی بچ نہ سکی۔۔۔! بچوں کی دیکھ بھال کہ لیئے امّاں فوری طور پر خیر النساء کو بیاہ لائیں۔۔۔! اور یوں راحیل بھی ہماری زندگی میں چلا آیا۔
 
Zaat

پہلے دن امّاں نے اس کا تعارف کرواتے وقت کہا بیٹا! خیر النساء بہت اچھی عورت ہے۔۔۔! اور دُکھی بھی ہے تیرے گھر اور بچوں کو بہت پیار سے سنبھال لے گی۔۔۔! بس اپنے بچوں کی خاطر تجھے اس کے لڑکے کو بھی گھر میں برداشت کرنا ہو گا۔۔۔! اب وہ اُس بدذات کو بھلا کہاں چھوڑے۔۔۔؟ امّاں کی اس بات نے میرے دِل میں ایک گِرہ لگا دی۔۔۔! دِل کے ایک کونے میں کینہ پلنے لگا۔۔۔! راحیل بہت تمیز دار بچہ تھا۔۔۔!
 
 ایک چیز جو میں نے شدت سے نوٹ کی کہ میرے سرد رویئے کے باوجود وہ مُجھ سے بہت محبت کرتا۔۔۔! اور میرے رویے سے اُسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔۔۔!صبح جب میں ناشتے کے لیئے کھانے کی میز پر آتا۔۔۔! راحیل انتہائی تمیز کے ساتھ اسلام علیکم ابّا جان کہتا اور بھاگ کر میرے آگے اخبار رکھتا۔۔۔! میرے دِل میں لگی گِرہ ڈھیلی ہوتی کہ ساتھ ہی آواز آتی ارے بد ذات چل اپنی ماں سے کہہ جلدی ناشتہ لاۓ میرے بچے کو دیر ہو رہی ہے۔۔۔! وعلیکم السلام کے ساتھ راحیل کے سر پر پیار دینے کے لیئے اٹھتا ہاتھ وہیں میری اپاہج سوچ کے ساتھ لڑتا اور شکست کھا کر ڈھیر ہوجاتا۔۔۔!
 
 خیرالنساء نے میرے گھر اور بچوں کو اچھی طرح سے سنبھال لیا تھا وہ بہت صابر عورت تھی۔۔۔! کبھی شکوہ زبان پر نہ لاتی ۔۔۔! مُجھے یاد ہے ایک دن راحیل اُس سے پوچھ رہا تھا امّی جان بدذات کیا ہوتا ہے۔۔۔؟ میرا پورا جسم کان بن گیا میری سماعتیں شدت سے خیرالنساء کے جواب کی منتظر تھیں۔۔۔!مسکرا کر کہنے لگیں جب کوئی بہت پیارا لگے اور نظر لگنے کے ڈر سے آپ بتانا نہ چاہیں تو اُسے بدذات کہتے ہیں۔۔۔! اُس دن میں نے دیکھا راحیل بہانے بہانے سے سارا دن امّاں کے اِرد گرد پھرتا رہا۔۔۔!کبھی جاءِ نماز بچھا کر دے رہا ہے اور کبھی زرا سے کھانسنے پر پانی کا گلاس اُن کے آگے رکھ رہا ہے۔۔۔! امّاں کی آواز آئی ارے بدذات کیوں میری جان کھا رہا ہے ڈرامے باز۔۔۔! جا دفعہ ہو جا کر کچھ پڑھ لے۔۔۔! کیا جاہل رہ کر میرے بیٹے کے مال پر عیش کرتا رہے گا۔۔۔! راحیل نے کھٹ سے امّاں کے گلے میں باہیں ڈالیں چٹاچٹ اُن کی گال پر پیار کیا اچھا پیاری دادی جان کہا اور بھاگ گیا۔۔۔! میں وہیں امّاں کے تخت کے پاس بیٹھا دیکھ رہا تھا امّاں کی آنکھوں میں ہلکی سی نُور کی چمک نظر آئی اور پھر معدوم ہوگئی۔۔۔!
 
 کیسے بدقسمت تھے ہم ماں بیٹا اور کیسے خوش بخت تھے وہ ماں بیٹا۔۔۔! خیرالنساء نے بچے کے دِل میں نفرت کی گرہ نہیں لگنے دی تھی۔۔۔! اور میری ماں مُجھ اونچے لمبے مرد ، پیشہ کے اعتبار سے وکیل کے دِل میں کس آسانی کے ساتھ گِرہ لگانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔۔۔!
 
مُجھے جوتے جمع کرنے کا بہت شوق تھا اچھے جوتے میری کمزوری تھے۔۔۔! میری وارڈ روب میں ایک سے بڑھ کر ایک جوتا موجود تھا۔۔۔! راحیل بہت شوق سے میرے جوتے پالش کیا کرتا۔۔۔! کئی بار میں نے اسے بڑی دلجمعی سے جوتے چمکاتے دیکھا۔۔۔! اور سچ بات تو یہ ہے کہ میرا دِل خوش ہو جاتا جوتے دیکھ کر۔۔۔! مُجھے یاد ہے ایک دفعہ میں نے خوش ہو کر صرف اتنا کہا واہ راحیل کمال کر دیا تم نے اور اسے پانچ سو کا نوٹ انعام دیا۔۔۔! بھاگا بھاگا امّاں کے کمرے میں گیا دادی دادی دیکھیں ابّا نے مُجھے انعام دیا ہے۔۔۔! گھر کے ملازمین سے لے کر گھر میں آنے والے ایک ایک مہمان کو بتاتا کہ ابّا نے مُجھے انعام دیاہے۔۔۔! امّاں نے ہنہ بدذات دفعہ ہو جا کہہ کر منہ پھیر لیا۔۔۔! کاش امّاں اُسے خیرالنساء کی خاطر ہی ایک بار گلے سے لگا لیتیں۔۔۔! 
 
جس نے اُن کے پوتوں کو اپنے جِگر کے ٹکڑے سے بڑھ کر پیار دیا تھا۔۔۔! امّاں کی لگائی ہوئی نفرت کی دھیمی آنچ پر میری انا کا بُت پکتا رہا۔۔۔! خیرالنساء کی میرے بچوں اور گھر کے ساتھ بے پناہ محبت اور احسان بھی انا کے اس بُت کو توڑ نہ پایا۔۔۔! راحیل کی تمام خوبیوں کے باوجود میں نے کبھی اسے سینے سے نہیں لگایا تھا۔۔۔! ہاں مگر میں نے اس پر خرچ کرنے یا اس کی ضروریات پوری کرنے میں کوئی کوتاہی نہ کی۔۔۔! خیرالنساء اتنے ہی میں مطمئن تھی۔۔۔! وقت گزرتا رہا بچے بڑے ہو گئے۔۔۔!
 
 عمر اور علی میرے جُڑواں بیٹے۔۔۔! اعلی تعلیم کے لیئے ملک سے باہر چلے گئے۔۔۔! راحیل نے میٹرک کے بعد تعلیم کو خیر آباد کہہ دیا۔۔۔! میرے بہت چاہنے کے باوجود وہ پڑھ نہیں سکا۔۔۔! سارے محلے کا لاڈلا تھا صبح کا گھر سے نکلا شام کو گھر آتا۔۔۔! اکثر ہاتھ پر پٹی بندھی ہوتی جانے کہاں سے چوٹ لگوا کر آتا تھا۔۔۔! خیرالنساء نے میرے دریافت کرنے پر کہا فکر نا کریں مُجھے بتا کر جاتا ہے میری اس پر نظر ہے۔۔۔! 
 
وقت نے امّاں کو ہم سے چھین لیا۔۔۔! آخری وقت میں راحیل نے امّاں کی بہت خدمت کی۔۔۔! کئی بار اپنی گود میں اُٹھا کر ہسپتال لے جانے کے لیئے گاڑی میں بٹھایا۔۔۔! اُن کا کمزور وجود باہوں میں بھر کر کئی راتیں حیدر نے ہسپتال کے بیڈ پر جاگ کر گزار دیں۔۔۔! جانے کس مِٹّی سے بنا تھا یہ راحیل حالانکہ اب اس کو بدذات کا مطلب بھی سمجھ میں آنے لگا تھا۔۔۔! مرتے سَمے امّاں کے ہاتھ راحیل کے آگے جُڑے ہوۓ تھے۔۔۔! جنہیں چُوم کر اُس نے اپنے ہاتھوں سے امّاں کی آنکھیں بند کیں اور میرے ساتھ انہیں لحد میں اُتارا۔۔۔! 
 
میرے دونوں بیٹے چاہنے کے باوجود دادی کی آخری رسومات میں شریک نہ ہو پاۓ۔۔۔! اُس دن امّاں کی لگائی گِرہ ڈھیلی ہوگئی بالکل ڈھیلی۔۔۔! بس ایک بار راحیل کو گلے سے لگانے کی دیر تھی کہ کُھل جاتی مگر انا کو شکست دینا کہاں میرے بس میں تھا۔۔۔! عمر اور علی نے پڑھائی مکمل ہونے کے بعد شادیاں کر لیں اور اُدھر کے ہی ہو کر رہ گئے۔۔۔! سال میں ایک بار بس ملنے کے لیئے آجاتے۔۔۔! 
 
 
گھڑی پر سوئیوں کا رقص جاری تھا اب کے ڈانس سٹیپ میں وقت کا پاؤں میری قسمت پر تھا۔۔۔! مُجھے اپنی کارکردگی پر ایک بہت بڑا ایوارڈ ملنے والا تھا
کہ مُجھے فالج ہو گیا۔۔۔! چمکتے بوٹ پہننے والے پاؤں مفلوج ہو گئے۔۔۔! کیا عثمان شاہ ننگے اور ٹہڑھے پاؤں کے ساتھ وہیل چیئر پر ایوارڈ وصول کرے گا۔۔۔! جس انا کے بُت کو میں نا توڑ پایا اللہ نے اُسے توڑ ڈالا تھا۔۔۔! نوکروں کی فوج کے باوجود راحیل میرے سارے کام اپنے ہاتھ سے کرتا۔۔۔! تقریب والے دن اُس نے مُجھے اپنے ہاتھوں سے بہترین لباس پہنا کر تیار کیا جیسے کوئی باپ اپنے بچے کو سکول کے پہلے دن کے لیئے تیار کرتا ہو۔۔۔! اور پھر ایک انتہائی خُوبصورت کالے چمڑے کے بوٹ میرے پاؤں میں پہنانے لگا۔۔۔! جو کہ اسپیشل میرے پاؤں کے لیئے بنے تھے۔۔۔! مُجھے جوتوں کی بہت پہچان تھی جوتے کسی بہت مہنگی کمپنی پر آرڈر دے کر بنواۓ گئے تھے۔۔۔!
 
 ایوارڈ کے لیئے میری وہیل چیئر چلانے کے لیئے اسپیشل انتظام تھا۔۔۔! مگر راحیل خود میری وہیل چیئر چلا کر سٹیج پر لایا۔۔۔! ایوارڈ ملنے کے بعد میرے گال پربوسہ دیا اور کہنے لگا I am proud of you baba...! 
 
میں کہنا چاہتا تھا۔۔۔! میں بہت بار راحیل سے کہنا چاہتا تھا I am proud of you my son...! مگر کبھی نہ کہہ سکا۔۔۔! وہ ایک بار پھر جیت گیا۔۔۔! یہ مائیں بڑی ظالم ہوتی ہیں ان کی لگائی گرہیں بہت سخت ہوتی ہیں وقت کے ساتھ ڈھیلی تو پڑ جاتی ہیں مگر کُھل نہیں پاتیں۔۔۔! میرے کان میں امّاں کی آواز آئی بدذات۔۔۔! آج شاید میری انا کا امتحان تھا۔۔۔! ایوارڈ کی تقریب کے بعد راحیل مُجھے جوتوں کی ایک فیکٹری میں لے گیا۔۔۔! اندر داخل ہوتے ہی میں نے دیکھا ہر کوئی راحیل کو “سلام صاحب سلام صاحب” کہہ رہا ہے اور پھر راحیل مُجھے ایک دفتر میں لے گیا جہاں ایک بہت خُوبصورت بزرگ بیٹھے تھے۔۔۔!
 
 راحیل کو دیکھتے ہی اُٹھ کر آئے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہنے لگے مبارک ہو عثمان شاہ صاحب۔۔۔! اللہ کو کوئی تو آپ کی بات پسند آئی ہو گی جو اُس نے آپ کو راحیل جیسا بیٹا دیا۔۔۔! یہ آپ کے بیٹے کی فیکٹری ہے۔۔۔! آپ کا بیٹا دنیا کا سب سے مشہور شو میکر ہے۔۔۔! 
 
مُجھے یاد ہے ایک دفعہ میری پسند کے بہت مہنگے جوتے خراب ہو گئے تھے۔۔۔! جوتے اٹلی کے تھے اور واپس کمپنی میں بھیجنے میں بہت وقت لگتا۔۔۔! راحیل نے بڑے ماہر موچی “بابا جی“ کو ڈُھونڈ کر اُن سے میرے جوتے مرمت کرواۓ۔۔۔! یہ وہی جوتے تھے جن پر خوش ہو کر میں نے اُسے پانچ سو کا نوٹ انعام میں دیا تھا۔۔۔! 
 
باباجی کی مہارت دیکھتے ہوۓ میرے شوق کی خاطر راحیل نے اُن سے جوتے بنانے کا فن سیکھا۔۔۔! اور اب راحیل کے بناۓ جوتے پوری دنیا میں مشہور تھے۔۔۔! یورپ سے امراء راحیل کو اپنے جوتے بنوانے کے لیئے بلاتے مگر وہ مُجھے اور اپنی ماں کو چھوڑ کر کبھی نہیں گیا۔۔۔! بابا جی نے ساری کہانی سنائی۔۔۔!
 
 اُس وقت راحیل کے پٹی بندھے ہاتھ میری آنکھوں کے سامنے آتے رہے۔۔۔! اُس کے ہاتھوں میں چُبھنے والی سوئیاں میرے سارے جسم میں چھید کر گئیں۔۔۔! میرے جسم میں سوئیاں ہی سوئیاں چُبھی تھیں۔۔۔! کون نکالے گا اُنہیں کیا میری توبہ میرے زخم بھر پاۓ گی۔۔۔! گرہ کُھل گئی تھی انا کا بُت ٹوٹ چکا تھا۔۔۔! میں نے راحیل کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے۔۔۔! 
 
اُس راحیل کے سامنے جسے اماں بدذات کہتی تھیں۔۔۔! راحیل نے میرے آنسو صاف کیئے۔۔۔! میرے قدموں میں بیٹھ گیا اور کہنے لگا میرے سب دوستوں کے پاس ابو تھے۔۔۔! نانی مُجھے اللہ سے دُعا مانگنے کا کہتیں اور میں نے بہت بار اللہ سے دعا مانگی۔۔۔! آپ میری دُعاؤں کا ثمر تھے۔۔۔! میرے اللہ کا انعام تھے۔۔۔! میں آپ سے محبت کیسے نہ کرتا۔۔۔! آپ مُجھے بہت پیارے ہیں ابّا۔۔۔!
 
آپ کی نظرِ کرم پانچ سو کا وہ ایک نوٹ وہ میری زندگی کی کتاب کا سب سے بہترین Note بن گیا۔۔۔! جس نے میری زندگی بدل ڈالی۔۔۔! میں اپنے ابا کا پسندیدہ بیٹا بننا چاہتا تھا ۔۔۔! 
 
اور وہ بن گیا۔۔۔! وہ میرا سب سے پیارا بیٹا بن گیا ۔۔۔!خیرالنساء پاس بیٹھی رو رہی تھی مگر اُس کی پیشانی چمک رہی تھی۔۔۔! وہ راحیل کی ماں تھی اُس نے راحیل کو محبت کرنا سکھایا تھا۔۔۔! کاش میری ماں نے بھی مجھے محبت کرنا سکھایا ہوتا۔۔۔! اُس رات جب راحیل نے اپنے ہاتھوں سے بناۓ ہوۓ میرے بوٹ اتار کر مجھے بیڈ پر لٹایا۔۔۔! تو زندگی میں پہلی بار میں نے اُس کا منہ چوم کر کہا
 
 I am proud of you my son...!
I love you more than everything
۔

Read More

Post Top Ad

Your Ad Spot