۔
ہم سے بدل گیا وہ نگاہیں تو کیا ہوا
زندہ ہیں کتنے لوگ محبت کئے بغیر
پہلے قریب تھا کوئی،اب دُوریاں بھی ہیں
انسان کے نصیب مجبوریاں بھی ہیں
اُس کو ترس گئی ہیں یہ باہیں تو کیا ہوا
صدمہ یہ جھیلنا ہے شکایت کئے بغیر۔
ہم سے بدل گیا وہ نگاہیں تو کیا ہوا
زندہ ہیں کتنے لوگ محبت کئے بغیر
اے دل گلہ نہ کر کہ ترا پیار چھن گیا
ہم جس کو چاہتے تھے وہ دلدار چھن گیا
چاہیں گے پھر بھی ہم اُسے نفرت کئے بغیر
زندہ ہیں کتنے لوگ محبت کئے بغیر
ہم سے بدل گیا وہ نگاہیں تو کیا ہوا
زندہ ہیں کتنے لوگ محبت کئے بغیر
۔
۔
