کہیں تو مِل مجھے، اے گمشدہ خدا میرے
*
فِگار پاؤں مِرے،اشک نارسا میرے
کہیں تو مِل مجھے، اے گمشدہ خدا میرے
میں شمعِ کشتہ بھی تھا،صبح کی نوید بھی تھا
شِکست میں کوئی انداز دیکھتا میرے
وہ دردِ دل میں ملا،سوزِجسم و جا ں میں ملا
کہاں کہاں اُسے ڈھونڈا جو ساتھ تھا میرے
ہر اک شعر میں مَیں اُس کا عکس دیکھتا ہوں
مری زباں سے جو اشعار لے گیا میرے
سفر بھی مَیں تھا، مسافر بھی مَیں تھا،راہ بھی مَیں
کوئی نہیں تھا کڑے کوس ما سوا میرے
وفا کا نام بھی زندہ ہے، مَیں بھی زندہ ہوں
اب اپنا حال ُسنا مجھ کو بے وفا میرے
وہ چارہ گر بھی اُسے دیر تک نہ پہچانا
جگر کا زخم تھا ، نغموں میں ڈھل گیا میرے
کہیں تو مِل مجھے، اے گمشدہ خدا میرے
میں شمعِ کشتہ بھی تھا،صبح کی نوید بھی تھا
شِکست میں کوئی انداز دیکھتا میرے
وہ دردِ دل میں ملا،سوزِجسم و جا ں میں ملا
کہاں کہاں اُسے ڈھونڈا جو ساتھ تھا میرے
ہر اک شعر میں مَیں اُس کا عکس دیکھتا ہوں
مری زباں سے جو اشعار لے گیا میرے
سفر بھی مَیں تھا، مسافر بھی مَیں تھا،راہ بھی مَیں
کوئی نہیں تھا کڑے کوس ما سوا میرے
وفا کا نام بھی زندہ ہے، مَیں بھی زندہ ہوں
اب اپنا حال ُسنا مجھ کو بے وفا میرے
وہ چارہ گر بھی اُسے دیر تک نہ پہچانا
جگر کا زخم تھا ، نغموں میں ڈھل گیا میرے
