Tumhari Yaad - The Poetry Collections

Hot

Post Top Ad

Your Ad Spot

Thursday, 20 October 2016

Tumhari Yaad


Tumhari Yaad


sad



تمھاری یاد
 
فقط ایک پھول
پرندے لوٹتے دیکھے
 تو یہ دھوکا ہوا مجھ کو 
کہ شاید جستجو میری
یا کوئی آرزو میری
ترے در سے پلٹ آئی
مجھے  تنہا
 بیاباں سے گزرتے
 لگ رہا ہے ڈر
جدائی کے شجر کی 
اب حفاظت بس سے باہر ہے 
یہ پانی آنکھ سے گرتا
اگر سیلاب ہو جائے 
یہ پیلی دھوپ، مہکی رُت، 
سراب و خواب ہوجائے 
تو پھر اس تشنہ روش میں 
پھوٹتی کلیوں کے سب نغمے 
سنانے کو ترستی خواہشیں،
 ناکام ٹہریں گی 
مثالِ رفتگاں ،
 جاتے ہوئے مہکے ہوئے لمحے 
خزاں کے زرد پتوں کے لئے ہی
 قرض لے آؤ 
مسلسل جو اُداسی پر اداسی
یوں برستی ہے 
کہیں مرجھا نہ دے
 سرسبز اس شاخِ محبت کو 
تعلق کی بھی میری جان 
 اک میعاد ہوتی ہے 
پھر اس کے بعد
ہر بندھن سے جان
 آزاد ہوتی ہے 
خزاں کی جیت سے پہلی 
ذرا یہ دھیان کرلینا 
کہ سینےمیں ، مرا دل ہے
فقط اِک پھول 
تمہاری یاد 
سونی سونی ،خالی خالی 
اک سرمئی حویلی میں 
راگ !! 
ستار نے چھیڑا ہے 
اک جلتی مشعل لےکر
 شب ملنےکو آئی ہے 
فانوسوں کی 
چھن چھن، چھن میں 
جھلمل جھلمل، چاندنی پر 
رقص، ہوا کا جاری ہے 
سوکھی چنبیلی کی اک بیل 
خستہ ستون سے لپٹی ہے 
اور، تھرکتی لَو کا رنگ لےکر
 لاکھوں ننھے دیپ 
دل کے طاق پہ جل اُٹھے ہیں 
آئی جیسے
تمہاری یاد 

Post Top Ad

Your Ad Spot