Lazim Tha Ki Dekho Mera Rasta Koi Din Aur - The Poetry Collections

Hot

Post Top Ad

Your Ad Spot

Wednesday, 19 October 2016

Lazim Tha Ki Dekho Mera Rasta Koi Din Aur

لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور 
تنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور
.دلچسپ حقیقت
غالب کے سات بچے تھے لیکن بدقسمتی سے ان میں سے کوئی بھی پندرہ ماہ سے زیادہ زندہ نہ رہا اور غالب بے اولاد انتقال کر گئے۔ اپنی تنہائی اور کچھ دیگر وجوہات کی بنا پر غالب نے زین العابدین خان عارف کو گود لے لیا تھا جو ان کی اہلیہ کے بھتیجے تھے۔ لیکن پینتیس سال کی عمر میں عارف کا بھی انتقال ہو گیا اور غالب کی یہ سوگوار غزل عارف کی وفات پر ان کے دیوان میں موجود ہے۔

SAD

لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور 
تنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور 

مٹ جائے گا سَر ،گر، ترا پتھر نہ گھِسے گا 
ہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور 

آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ 'جاؤں؟' 
مانا کہ ہمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اور 

جاتے ہوئے کہتے ہو 'قیامت کو ملیں گے' 
کیا خوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور 

ہاں اے فلکِ پیر! جواں تھا ابھی عارف 
کیا تیرا بگڑ تا جو نہ مرتا کوئی دن اور 

تم ماہِ شبِ چار دہم تھے مرے گھر کے 
پھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور 

تم کون سے ایسے تھے کھرے داد و ستد کے 
کرتا ملکُ الموت تقاضا کوئی دن اور 

مجھ سے تمہیں نفرت سہی، نیر سے لڑائی 
بچوں کا بھی دیکھا نہ تماشا کوئی دن اور 

گزری نہ بہرحال یہ مدت خوش و ناخوش 
کرنا تھا جواں مرگ گزارا کوئی دن اور 

ناداں ہو جو کہتے ہو کہ کیوں جیتے ہیں غالبؔ 
 
   قسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور


.

Post Top Ad

Your Ad Spot