.
ایک سنگدل کے نام آخری پیغام
یہ رسم وفا ہی چھوڑتا ہوں
سرما کی اداس چاندنی کا
شائد تمھیں یاد ہو وہ ہنگام
جب عہد کیا تھا میں نے تم سے
چاہے مری زندگی کے ایام
عسرت میں کٹیں یا زرگری میں
لیکن میں بگولہ پا کسی دن
آؤں گا تمہاری آرزو میں
یا شکوہ حور دھر کرنے
اشکوں کا خلوص آزمانے
یا دینے مسرتوں کا پیغام
اور اپنی وفا کی داد پانے
گر کسی اور کی ہو گئی تم
جینے دوں گا نہ جیوں گا
تم کو بھی پلاؤں گا وہی میں
جو زہر حیات خود پیوں گا
میں آج وہ عہد توڑتا ہوں
یہ رسم وفا ہی چھوڑتا ہوں
.
...........................
.
یہ رسم وفا ہی چھوڑتا ہوں
سرما کی اداس چاندنی کا
شائد تمھیں یاد ہو وہ ہنگام
جب عہد کیا تھا میں نے تم سے
چاہے مری زندگی کے ایام
عسرت میں کٹیں یا زرگری میں
لیکن میں بگولہ پا کسی دن
آؤں گا تمہاری آرزو میں
یا شکوہ حور دھر کرنے
اشکوں کا خلوص آزمانے
یا دینے مسرتوں کا پیغام
اور اپنی وفا کی داد پانے
گر کسی اور کی ہو گئی تم
جینے دوں گا نہ جیوں گا
تم کو بھی پلاؤں گا وہی میں
جو زہر حیات خود پیوں گا
میں آج وہ عہد توڑتا ہوں
یہ رسم وفا ہی چھوڑتا ہوں
.
...........................
.

