.
روشنی کا سراغ پانے سے
کیا ملا مجھ کو دل جلانے سے
کیا ملا مجھ کو دل جلانے سے
یاد آتے ہیں آج بھی مجھ کو
یار میرے سبھی پرانے سے
یار میرے سبھی پرانے سے
غم زمانے کے بھول جاتا ہوں
اے مرے یار تیرے آنے سے
تیری دہلیز سے نہیں اٹھتا
چین ملتا جو سر جھکانے سے
آستینوں میں سانپ ہوتے ہیں
ہاتھ ڈرتا ہوں اب ملانے سے
اس لیے میں صدا نہیں دیتا
اس نے آنا نہیں بلانے سے
میں قمر اس کے پاؤں پڑ جاتا
مان جاتا وہ گر منانے سے
............................
.
اے مرے یار تیرے آنے سے
تیری دہلیز سے نہیں اٹھتا
چین ملتا جو سر جھکانے سے
آستینوں میں سانپ ہوتے ہیں
ہاتھ ڈرتا ہوں اب ملانے سے
اس لیے میں صدا نہیں دیتا
اس نے آنا نہیں بلانے سے
میں قمر اس کے پاؤں پڑ جاتا
مان جاتا وہ گر منانے سے
............................
.

