.
کچھ اِدھر کچھ اُدھر نہیں ملتا
ایک درویش گر نہیں ملتا
کیوں خدا کو تلاش کرتے ہو
کیا کوئی چشمِ تر نہیں ملتا
ایک درویش گر نہیں ملتا
کیوں خدا کو تلاش کرتے ہو
کیا کوئی چشمِ تر نہیں ملتا
جس کو دیکھو وہی فرشتہ ہے
کوئی زیر و زبر نہیں ملتا
مجھ کو منزل صدائیں دیتی ہے
پر کوئی ہمسفر نہیں ملتا
روز ملتا ہے اک نیا گھاؤ
اور ستم چارہ گر نہیں ملتا
درد والوں کو درد ملتا ہے
ہر کسی کو مگر نہیں ملتا
آسماں پر کئی ستارے ہیں
چاند کوئی مگر نہیں ملتا
در بدر جو بھٹکتے رہتے ہیں
کیا انہیں تیرا گھر نہیں ملتا
دشت منزل ہے عشق والوں کی
اور زادِ سفر نہیں ملتا
غم کوئی اور مل گیا ہوتا
غم تمہارا اگر نہیں ملتا
میں نے اکثر یہ آزمایا ہے
جو میں چاہوں قمر نہیں ملتا
کوئی زیر و زبر نہیں ملتا
مجھ کو منزل صدائیں دیتی ہے
پر کوئی ہمسفر نہیں ملتا
روز ملتا ہے اک نیا گھاؤ
اور ستم چارہ گر نہیں ملتا
درد والوں کو درد ملتا ہے
ہر کسی کو مگر نہیں ملتا
آسماں پر کئی ستارے ہیں
چاند کوئی مگر نہیں ملتا
در بدر جو بھٹکتے رہتے ہیں
کیا انہیں تیرا گھر نہیں ملتا
دشت منزل ہے عشق والوں کی
اور زادِ سفر نہیں ملتا
غم کوئی اور مل گیا ہوتا
غم تمہارا اگر نہیں ملتا
میں نے اکثر یہ آزمایا ہے
جو میں چاہوں قمر نہیں ملتا

