.
میں پھر یہاں آؤں گا
میں ایک گریزاں لمحہ ہوں
ایام کے افسوں خانے میں
میں ایک تڑپتا قطرہ ہوں
مصروف سفر جو رہتا ہوں
ماضی کی صراحی کے دل سے
مستقبل کے پیمانے میں
سوتا ہوں اور جاگتا ہوں
صدیوں کا پرانا کھیل ہوں میں
میں مر کے امر ہو جاتا ہوں
ہنسنے کی صدائیں آئیں گی مرے بعد
اور سارا زمانہ دیکھے گا
ہر قصہ مرا افسانہ ہے
لیکن میں پھر یہاں آؤں گا
شبنم کے قطرے تولوں گا
اپنی آنکھیں پھر کھولوں گا
اور سارا زمانہ دیکھے گا
.
...............
.
میں ایک گریزاں لمحہ ہوں
ایام کے افسوں خانے میں
میں ایک تڑپتا قطرہ ہوں
مصروف سفر جو رہتا ہوں
ماضی کی صراحی کے دل سے
مستقبل کے پیمانے میں
سوتا ہوں اور جاگتا ہوں
صدیوں کا پرانا کھیل ہوں میں
میں مر کے امر ہو جاتا ہوں
ہنسنے کی صدائیں آئیں گی مرے بعد
اور سارا زمانہ دیکھے گا
ہر قصہ مرا افسانہ ہے
لیکن میں پھر یہاں آؤں گا
شبنم کے قطرے تولوں گا
اپنی آنکھیں پھر کھولوں گا
اور سارا زمانہ دیکھے گا
.
...............
.

