خود کو پڑھتا ہوں چھوڑ دیتا ہوں - The Poetry Collections

Hot

Post Top Ad

Your Ad Spot

Monday, 22 February 2016

خود کو پڑھتا ہوں چھوڑ دیتا ہوں



خود کو پڑھتا ہوں چھوڑ دیتا ہوں

اک ورق روز موڑ دیتا ہوں


اس قدر زخم ھیں نگاہوں میں

روز ایک آئینہ توڑ دیتا ہوں


کانپتے ہونٹ بھیگتی پلکیں

بات ادھوری ہی چھوڑ دیتا ہوں


ریت کے گھر بنا بنا کے 

جانے کیوں خود ہی توڑ دیتا ہوں


Post Top Ad

Your Ad Spot