حادثے کے کچھ نشاں ہم کو بھی - The Poetry Collections

Hot

Post Top Ad

Your Ad Spot

Monday, 22 February 2016

حادثے کے کچھ نشاں ہم کو بھی



حادثے کے کچھ نشاں ہم کو بھی ساحل پر ملے 

نم ہوا کی سسکیاں ، روتے ہوئے پتھر ملے 




ہم نے چٹانوں کو بھی دیکھا ہے اکشر ٹوٹتے

خشک آنکھوں میں چھپے اکثر کئی ساگر ملے 




قدر کی ان کی کسی نایاب ہیرے کی طرح 

ان کے رستے میں پڑے جتنے ہمیں پتھر ملے




 مختلف تھے ہم زمانے بھر سے شاہد اس لئے 

ہم کو جو بھی غم ملے ، معمول سے ہٹ کر ملے 




پانیوں میں به گئیں خوابوں کی ساری بستیاں 

بارشوں کے زور سے ٹوٹےہوئے جب گھر ملے 




شک نہیں اس کی کڑی محنت میں رتی بھر ، مگر 

کیا کرے ایسا کساں جس کو زمیں بنجر ملے

.


.

Post Top Ad

Your Ad Spot